صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
33. باب في الخلافة والإمارة - ذكر ما يجب على الإمام أن لا يأخذ هذا المال إلا بحقه كي يبارك له فيه-
خلافت و امارت کا بیان - امام پر لازم ہے کہ وہ بیت المال سے صرف حق کے مطابق لے تاکہ اس میں برکت ہو
حدیث نمبر: 4513
سَمِعْتُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ بْنِ إِِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْحُسَيْنَ بْنَ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيَّ ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَخْوَفُ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مَا أَنْبَتَتِ الأَرْضُ أَوْ زُهْرَةُ الدُّنْيَا". فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟ قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ، فَأَخَذَهُ عِرْقٌ أَوْ بَهَرٌ، ثُمَّ أَفَاقَ، فَقَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ؟" فَقَالَ: هَا أَنَا ذَا وَلَمْ أُرِدْ إِِلا خَيْرًا. فَقَالَ:" إِِنَّ الْخَيْرَ لا يَأْتِي إِِلا بِالْخَيْرِ، وَإِِنَّ كُلَّ مَا أَنَبْتَ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ حَبَطًا أَوْ يُلِمُّ إِِلا آكِلَةَ الْخَضِرِ، فَإِِنَّهَا أَكَلَتْ، فَلَمَّا اشْتَدَّتْ خَاصِرَتَاهَا اسْتَقْبَلْتِ الشَّمْسَ، فَثَلَطَتْ ثُمَّ بَالَتْ، ثُمَّ عَادَتْ فَأَكَلْتُ، ثُمَّ أَفَاضَتْ فَاجْتَرَّتْ، وَإِِنَّ هَذَا الْمَالَ حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِحَقِّهِ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلا يَشْبَعُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى" . قَالَ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ: زَعَمَ سُفْيَانُ أَنَّ الأَعْمَشَ سَأَلَهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ اندیشہ اس چیز کا ہے جسے زمین پیدا کرے گی (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) دنیاوی زیب و زینت کا ہے۔ ایک صاحب نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا بھلائی برائی کو لے کر آئے گی۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے یہاں تک کہ ہمیں اندازہ ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ آ گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سانس تیز ہو گیا پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟ اس نے عرض کی: میں یہاں ہوں۔ میں نے اس سوال کے ذریعے صرف بھلائی کا ارادہ کیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بھلائی صرف بھلائی کو لے کر آتی ہے بہار کا موسم جو کچھ اگاتا ہے وہ کسی جانور کو مار دیتا ہے اور کسی کو تکلیف کا شکار کر دیتا ہے صرف سبزہ کھانے والے جانور کا حکم مختلف ہے کیونکہ وہ کھاتا ہے یہاں تک کہ اس کی کوکھ پھول جاتی ہے تو وہ دھوپ میں آ جاتا ہے وہاں وہ لید کرتا ہے۔ پیشاب کرتا ہے پھر واپس جا کر پھر کھاتا ہے پھر آتا ہے اور لیٹ جاتا ہے یہ مال میٹھا اور سرسبز ہے جو شخص اسے اس کے حق کے ہمراہ حاصل کرتا ہے اس کے لیے اس میں برکت رکھی جاتی ہے اور جو شخص اسے ناحق طور پر حاصل کرتا ہے اس کے لیے اس میں برکت نہیں رکھی جاتی اور اس شخص کی مثال ایسے شخص کی مانند ہوتی ہے جو کھانے کے باوجود سیر نہیں ہوتا اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔“ حسین بن حسن نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: سفیان یہ کہتے ہیں اعمش نے چالیس سال پہلے ان سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4513]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4496»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى برقم (3215). تنبيه!! رقم (3215) = (3225) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
الرواة الحديث:
عياض بن عبد الله العامري ← أبو سعيد الخدري