صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
49. باب في الخلافة والإمارة - ذكر الإباحة للإمام أن يردف بعض رعيته خلفه على راحلته-
خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے جائز ہے کہ اپنی سواری پر رعایا میں سے کسی کو اپنے پیچھے بٹھا لے
حدیث نمبر: 4529
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ الأَكْوَعِ ، قَالَ: خَرَجْتُ قَبْلَ أَنْ يُؤَذَّنَ بِالأَذَانِ، وَكَانَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرْعَى بِذِي قَرَدٍ، فَلَقِيَنِي غُلامٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، فَقَالَ: أُخِذَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قُلْتُ: مَنْ أَخَذَهَا؟ قَالَ: غَطَفَانُ. قَالَ: فَصَرَخْتُ، فَقُلْتُ: يَا صَبَاحَاهُ، فَأَسْمَعْتُ مَا بَيْنَ لابَتَيِ الْمَدِينَةِ، ثُمَّ انْدَفَعْتُ عَلَى وَجْهِي حَتَّى أَدْرَكْتُ الْقَوْمَ، وَقَدْ أَخَذُوا يَسْقُونَ مِنَ الْمَاءِ، فَجَعَلْتُ أَرْمِيهِمْ بِالنَّبْلِ، وَكُنْتُ رَامِيًا، وَجَعَلْتُ أَقُولُ: أَنَا ابْنُ الأَكْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ حَتَّى اسْتَنْقَذْتُ اللِّقَاحَ مِنْهُمْ، وَاسْتَلَبْتُ مِنْهُمْ ثَلاثِينَ بُرْدَةً، قَالَ: وَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ، فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، قَدْ حَمَيْتُ الْقَوْمَ الْمَاءَ وَهُمْ عِطَاشٌ، فَابْعَثْ إِِلَيْهِمُ السَّاعَةَ، فَقَالَ:" يَا ابْنَ الأَكْوَعِ، مَلَكْتَ فَأَسْجِحْ، إِِنَّهُمُ الآنَ بِغَطَفَانَ يُقْرَوْنَ". قَالَ: ثُمَّ خَرَجْنَا وَأَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَتِهِ حَتَّى دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ .
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اذان ہونے سے پہلے (اپنے گھر سے) نکلا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنیاں اس وقت ذی قرد کے مقام پر چل رہی تھیں میری ملاقات سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے غلام سے ہوئی اس نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنیاں پکڑی گئی ہیں میں نے دریافت کیا: انہیں کس نے پکڑا ہے اس نے جواب دیا: غطفان (قبیلے کے لوگوں نے پکڑا ہے) سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے بلند آواز میں چیخ ماری ”خطرہ ہے“ پورے مدینہ منورہ تک میری آواز گئی پھر میں سامنے کی سمت میں دوڑ پڑا یہاں تک کہ میں ان لوگوں کے پاس پہنچ گیا وہ اس وقت پانی پلا رہے تھے میں نے انہیں تیر مارنے شروع کیے میں بڑا اچھا تیر انداز تھا میں ساتھ یہ بھی کہتا جا رہا تھا۔ ”میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کمینے لوگوں کی بربادی کا دن ہے۔“ (سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) یہاں تک کہ میں نے ان سے اونٹنیوں کو حاصل کر لیا میں نے ان سے تیسں چادریں بھی حاصل کر لیں اس دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگ تشریف لے آئے میں نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں نے ان لوگوں کو پانی پر گھیر لیا تھا وہ لوگ پیاسے ہیں آپ اسی وقت ان کے پیچھے کسی کو روانہ کر دیں (تو وہ پکڑے جا سکتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے اکوع کے بیٹے تم کامیاب ہو گئے ہو تو بس ٹھیک ہے۔ وہ لوگ اس وقت غطفان قبیلے تک پہنچ چکے ہوں گے۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر ہم روانہ ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے اپنی اونٹنی پر بٹھا لیا، یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ میں داخل ہو گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4529]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4512»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «تخريج فقه السيرة» (343): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح إسناده حسن
الرواة الحديث:
يزيد بن أبي عبيد الأسلمي ← سلمة بن الأكوع الأسلمي