صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
54. باب في الخلافة والإمارة - ذكر ما يستحب للإمام إعطاء رعيته ما يأملونه من الأسباب التي بها يتبركون من ناحيته-
خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے مستحب ہے کہ وہ رعایا کو وہ چیز عطا کرے جس سے وہ اس کی طرف سے برکت کی امید رکھتے ہوں
حدیث نمبر: 4534
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ يُوسُفَ بِدِمَشْقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، قَالَ: عَقَلْتُ مَجَّةً مَجَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِي مِنْ دَلْوٍ مُعَلَّقَةٍ فِي دَارِنَا، قَالَ مَحْمُودٌ: فَحَدَّثَنِي عِتْبَانُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّ بَصَرِي قَدْ سَاءَ، وَإِِنَّ الأَمْطَارَ إِِذَا اشْتَدَّتْ سَالَ الْوَادِي فَحَالَ بَيْنِي وَبَيْنَ الصَّلاةِ فِي مَسْجِدِ قَوْمِي، فَلَوْ صَلَّيْتُ فِي مَنْزِلِي مَكَانًا أَتَّخِذُهُ مُصَلًّى؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ". قَالَ: فَغَدَا عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَاسْتَأْذَنَا، فَأَذِنْتُ لَهُمَا، قَالَ: فَمَا جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَالَ: " أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ فِي مَنْزِلِكَ؟" فَأَشَرْتُ لَهُ إِِلَى نَاحِيَةٍ، فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَفْنَا خَلْفَهُ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، وَحَبَسْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خَزِيرَةٍ صَنَعْنَاهَا لَهُ .
سیدنا محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے یہ بات یاد ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے پر ایک ڈول میں سے پانی لے کر کلی فرمائی تھی جو ہمارے گھر میں لٹکا ہوا تھا۔ سیدنا محمود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ بات بتائی کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری نظر کمزور ہو گئی ہے، جب بارشیں زیادہ ہوتی ہیں تو نشیبی علاقے میں پانی جمع ہو جاتا ہے جو میرے اور میرے محلے کی مسجد کے درمیان رکاوٹ بن جاتا ہے، لہٰذا آپ اگر میرے گھر میں کسی جگہ نماز ادا فرما لیں تو میں اس جگہ کو جائے نماز بنا لوں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ اگلے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے، ان دونوں نے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو میں نے ان دونوں کو اجازت دے دی۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما نہیں ہوئے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے یہ دریافت فرمایا: ”تم کہاں یہ پسند کرتے ہو کہ میں تمہارے گھر میں اس جگہ نماز ادا کروں؟“ میں نے گھر کے ایک گوشے کی طرف اشارہ کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک صف بنائی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں ادا کیں، پھر ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «خَزِيرَة» ”خزیرہ“ کھانے کے لیے روک لیا جو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تیار کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4534]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 77، 189، 424، 425، 667، 686، 838، 839، 1185، 5401، 6354، 6422، 6938، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 33، ومالك فى (الموطأ) برقم: 594، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1653، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 223، 1292، 1612، 2075، 4534، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6560، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 787، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 660، 754، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12579» «رقم طبعة با وزير 4517»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (223).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 4534 in Urdu
محمود بن الربيع الخزرجي ← عتبان بن مالك الأنصاري