صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
184. باب صلة الرحم وقطعها - ذكر ما يتوقع من تعجيل العقوبة للقاطع رحمه في الدنيا
صلہ رحمی اور قطع رحمی کا بیان - اس بات کا ذکر کہ صلہ رحمی کاٹنے والے کے لیے دنیا ہی میں سزا جلد آنے کا اندیشہ ہے۔
حدیث نمبر: 455
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْغَطَفَانِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ ذَنْبٍ أَجْدَرُ أَنْ يُعَجِّلَ اللَّهُ لِصَاحِبِهِ الْعُقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا، مَعَ مَا يَدَّخِرُ لَهُ فِي الآخِرَةِ، مِنَ الْبَغِيِّ وَقَطِيعَةِ الرَّحِمِ" .
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”زنا اور قطع رحمی سے زیادہ کوئی گناہ اس لائق نہیں ہے کہاللہ تعالیٰ اس کو کرنے والے کو دنیا میں بھی سزا دے اور اس کے ساتھ آخرت میں بھی سزا تیار رکھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 455]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 456»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (915).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، وعبد الوارث هو ابن عبيد الله العتكي، ووالد عيينة هو عبد الرحمن بن جوشن الغطفاني.
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن جوشن الغطفاني ← نفيع بن مسروح الثقفي