صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
84. باب طاعة الأئمة - ذكر نفي إيجاب الطاعة للمرء إذا دعا إلى معصية الله جل وعلا-
ائمہ کی اطاعت کا بیان - وضاحت کہ اگر کوئی امام معصیتِ الٰہی کی طرف بلائے تو اس کی اطاعت واجب نہیں
حدیث نمبر: 4567
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلا، فَأَوْقَدَ نَارًا، فَقَالَ: ادْخُلُوهَا، فَأَرَادَ نَاسٌ أَنْ يَدْخُلُوهَا، وَقَالَ آخَرُونَ: إِِنَّا فَرَرْنَا مِنْهَا، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِلَّذِينَ أَرَادُوا أَنْ يَدْخُلُوهَا: لَوْ دَخَلْتُمُوهَا لَمْ تَزَالُوا فِيهَا إِِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، أَوْ قَالَ: أَبَدًا. وَقَالَ لِلآخَرِينَ: خَيْرًا. وَقَالَ: أَحْسَنْتُمْ " لا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ، إِِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ" .
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم روانہ کی اور ایک شخص کو ان کا امیر مقرر کیا ان لوگوں نے آگ جلائی تو اس امیر نے کہا: تم لوگ اس میں داخل ہو جاؤ کچھ لوگوں نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کیا تو کچھ دوسرے لوگوں نے کہا: ہم اس سے بچنے کے لیے ہی (مسلمان ہوئے ہیں) بعد میں اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو جن لوگوں نے آگ میں داخل ہونے کا ارادہ کیا تھا ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اس میں داخل ہو جاتے تو قیامت کے دن تک اس میں رہتے (راوی کو شک ہے) شاید یہ الفاظ ہیں: ہمیشہ اس میں رہتے، جبکہ دوسرے لوگوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اچھا کیا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) تم نے احسن اقدام کیا۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے بارے میں (حاکم وقت کی) کوئی فرمانبرداری نہیں ہو گی فرمانبرداری صرف نیکی کے کام میں ہو گی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4567]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4548»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2360)، «الصحيحة» (181): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
عبد الله بن حبيب السلمي ← علي بن أبي طالب الهاشمي