صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
107. باب فضل الجهاد - ذكر الخبر الدال على أن جهاد الفرض والنفقة فيه أفضل من الطاعات الأخر وإن كان في بعضها فرض-
جہاد کے فضائل کا بیان - اس بات کی خبر کہ فرض جہاد اور اس میں خرچ دوسری عبادات سے افضل ہے اگرچہ ان میں سے بعض فرض ہی کیوں نہ ہوں
حدیث نمبر: 4591
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلامِ بِبَيْرُوتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الدَّارِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ يَعْمَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ سَلامٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ ، قَالَ: " كُنْتُ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ: مَا أُبَالِي أَنْ أَعْمَلَ عَمَلا بَعْدَ الإِِسْلامِ إِِلا أَعْمُرُ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ، وَقَالَ آخَرُ: الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَفْضَلُ مِمَّا قُلْتُمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ لا يَسْتَوونَ عِنْدَ اللَّهِ وَاللَّهُ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ" .
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے پاس موجود تھا ایک شخص بولا: میں اس بات کی کوئی پروا نہیں کرتا کہ اسلام قبول کرنے کے بعد میں کوئی اور عمل (نہ) کروں، ماسوائے اس بات کے کہ میں مسجد حرام کو آباد کروں، بیت اللہ کا حج کرنے یا عمرہ کرنے کیلئے جاؤں دوسرے شخص نے کہا: اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا اس چیز پر زیادہ فضیلت رکھتا ہے جو تم نے بیان کی ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ”کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے کو اور مسجد حرام کو آباد کرنے کو اس شخص کی مانند قرار دے دیا ہے جو اللہ پر ایمان رکھتا ہو اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ برابر نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ ظالم لوگوں کو ہدایت نصیب نہیں کرتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4591]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4572»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م (1879). * قال الناشر: كل ما بين المعقوفات من «صحيح مسلم». والسياقُ مُقتضٍ لها - ولا بُدَّ -، وهي - جميعا - ساقطة من الطبعتين. تنبيه!! ما بين المعقوفات زيادة من «طبعة باوزير» وليست موجودة في «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
الرواة الحديث:
ممطور الأسود الحبشي ← النعمان بن بشير الأنصاري