صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
190. باب الرحمة - ذكر البيان بأن الله جل وعلا إنما يرحم من عباده الرحماء
رحمت کا بیان - اس وضاحت کا ذکر کہ اللہ جل وعلا اپنے بندوں میں سے صرف رحم کرنے والوں پر ہی رحمت فرماتا ہے۔
حدیث نمبر: 461
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلادٍ الْبَاهِلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَسُولُ امْرَأَةٍ مِنْ بَنَاتِهِ، فقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْسَلَتْ إِلَيْكَ ابْنَتُكَ أَنْ تَأْتِيَهَا، فَإِنَّ صَبِيًّا لَهَا فِي الْمَوْتِ، فقَالَ:" ائْتِهَا فَقُلْ لَهَا: إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ، وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى، فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ"، قَالَ: فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ رَجَعَ، فقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا تُقْسِمُ عَلَيْكَ إِلا جِئْتَهَا، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقُمْنَا مَعَهُ رَهْطٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَدَخَلْنَا، فَرُفِعَ إِلَيْهِ الصَّبِيُّ، وَنَفْسُهُ تَقَعْقَعُ فِي صَدْرِهِ، فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، فقَالَ لَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ" .
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی کی طرف سے ایک پیغام رساں آیا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ کی صاحبزادی نے آپ کو یہ پیغام بھیجا ہے کہ آپ ان کے ہاں تشریف لے آئیں کیونکہ ان کے صاحبزادے فوت ہونے والے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کے پاس جا کر اس سے کہو کہ «إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ، وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى» ”اللہ تعالیٰ جو چیز واپس لے وہ اسی کی ملکیت ہے، جو چیز اسی نے دی ہو وہ چیز بھی اسی کی ملکیت ہے اور اس کی بارگاہ میں ہر چیز کی ایک متعین مدت ہے“، اس لیے اسے صبر سے کام لینا چاہیے اور ثواب کی امید رکھنی چاہیے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: کچھ دیر بعد وہ شخص واپس آیا اور عرض کی: یا رسول اللہ! وہ آپ کو قسم دے رہی ہیں کہ آپ ان کے ہاں ضرور تشریف لے جائیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم بھی کھڑے ہو گئے، جو انصار کے کچھ افراد تھے، ہم ان کے ہاں گئے، اس بچے کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو اس کا سانس سینے میں اکھڑ کر آ رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ! یہ کس وجہ سے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ رحمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے رحم کرنے والے بندوں پر ہی رحم کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 461]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1284، 5655، 6602، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 923، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 461، 3158، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1867، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3125، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1588، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7229، 7249، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22190» «رقم طبعة با وزير 462»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «أحكام الجنائز» (ص 206 - 207): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله رجال الشيخين، غير أبي بكر بن خلاد- وهو محمد - فمن رجال مسلم. أبو عثمان: هو عبد الرحمن بن مل النهدي.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 461 in Urdu
أبو عثمان النهدي ← أسامة بن زيد الكلبي