🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
190. باب الرحمة - ذكر البيان بأن الله جل وعلا إنما يرحم من عباده الرحماء
رحمت کا بیان - اس وضاحت کا ذکر کہ اللہ جل وعلا اپنے بندوں میں سے صرف رحم کرنے والوں پر ہی رحمت فرماتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 461
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلادٍ الْبَاهِلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَسُولُ امْرَأَةٍ مِنْ بَنَاتِهِ، فقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْسَلَتْ إِلَيْكَ ابْنَتُكَ أَنْ تَأْتِيَهَا، فَإِنَّ صَبِيًّا لَهَا فِي الْمَوْتِ، فقَالَ:" ائْتِهَا فَقُلْ لَهَا: إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ، وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى، فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ"، قَالَ: فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ رَجَعَ، فقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا تُقْسِمُ عَلَيْكَ إِلا جِئْتَهَا، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقُمْنَا مَعَهُ رَهْطٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَدَخَلْنَا، فَرُفِعَ إِلَيْهِ الصَّبِيُّ، وَنَفْسُهُ تَقَعْقَعُ فِي صَدْرِهِ، فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، فقَالَ لَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ" .
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے۔ آپ کی ایک صاحبزادی کی طرف سے ایک پیغام رساں آیا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ کی صاحب زادی نے آپ کو یہ پیغام بھیجا ہے کہ آپ ان کے ہاں تشریف لے آئیں، کیونکہ ان کے صاحب زادے فوت ہونے والے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کے پاس جا کر اس سے کہو کہاللہ تعالیٰ جو چیز واپس لے وہ اس کی ملکیت ہے، جو چیز اسی نے دی ہو وہ چیز بھی اسی کی ملکیت ہے اور اس کی بارگاہ میں ہر چیز کی ایک متعین مدت ہے۔ اس لئے اسے صبر سے کام لینا چاہئے اور ثواب کی امید رکھنی چاہئے۔ راوی بیان کرتے ہیں: کچھ دیر بعد وہ شخص واپس آیا اور عرض کی: یا رسول اللہ! وہ آپ کو قسم دے رہی ہیں۔ آپ ان کے ہاں ضرور تشریف لے جائیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے۔ آپ کے ساتھ ہم بھی کھڑے ہو گئے۔ جو انصار کے کچھ افراد تھے ہم ان کے ہاں گئے اس بچے کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا، تو اس کا سانس سینے میں اکھڑ کر آ رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ! یہ کس وجہ سے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ رحمت ہے، جواللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھی ہے اوراللہ تعالیٰ اپنے رحم کرنے والے بندوں پر ہی رحم کرتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 461]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 462»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «أحكام الجنائز» (ص 206 - 207): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله رجال الشيخين، غير أبي بكر بن خلاد- وهو محمد - فمن رجال مسلم. أبو عثمان: هو عبد الرحمن بن مل النهدي.

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أسامة بن زيد الكلبي، أبو حارثة، أبو يزيد، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو زيدصحابي
👤←👥أبو عثمان النهدي، أبو عثمان
Newأبو عثمان النهدي ← أسامة بن زيد الكلبي
ثقة ثبت
👤←👥عاصم الأحول، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعاصم الأحول ← أبو عثمان النهدي
ثقة
👤←👥هشام بن حسان الأزدي، أبو عبد الله
Newهشام بن حسان الأزدي ← عاصم الأحول
ثقة حافظ
👤←👥عبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي، أبو محمد
Newعبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي ← هشام بن حسان الأزدي
ثقة
👤←👥محمد بن خلاد الباهلي، أبو بكر
Newمحمد بن خلاد الباهلي ← عبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي
ثقة
👤←👥عمران بن موسى الجرجاني، أبو إسحاق
Newعمران بن موسى الجرجاني ← محمد بن خلاد الباهلي
ثقة ثبت