الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
226. باب فرض الجهاد - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن فرض الجهاد كان بعد قدوم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة-
فرضِ جہاد کا بیان - اس خبر المدحض کا بیان جو اس قول کو باطل کرتا ہے کہ فرضِ جہاد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ گزارنے کے بعد ہوا
حدیث نمبر: 4710
أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَرَّكِينَ بِدِمَشْقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " لَمَّا خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَخْرَجُوا نَبِيَّهُمْ، إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ لَيَهْلِكُنَّ، فَنَزَلَتْ: أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ سورة الحج آية 39، قَالَ: فَعَرَفْتُ أَنَّهُ سَتَكُونُ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَهِيَ أَوَّلُ آيَةٍ نَزَلَتْ فِي الْقِتَالِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے نکلے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ان لوگوں نے اپنے نبی کو نکال دیا ہے بے شک ہم اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہیں۔ بے شک ہم نے اسی کی طرف لوٹ کر جاتا ہے یہ لوگ ضرور ہلاکت کا شکار ہوں گے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ ”وہ لوگ جن کے ساتھ جنگ کی جاتی ہے انہیں اس بات کی اجازت دی گئی ہے اس کی وجہ یہ ہے: ان کے ساتھ ظلم ہوا ہے بے شک اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تو مجھے اندازہ ہو گیا کہ عنقریب ایسا ہو گا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: یہ وہ پہلی آیت ہے، جو جنگ کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4710]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4690»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر التعليق في الحاشية. * [سُفْيَانُ] قال الشيخ: هو الثوري، وعنه: أخرجه عبد الرزَّاق في «تفسيره» (2/ 39)، والترمذيُّ (8/ 316 / 3170)، والنسائي في «الكبرى» (6/ 411 / 11345)، وابن جرير الطبري في «التفسير» (17/ 123)، والحاكم (2/ 390)، والبيهقي في «الدلائل» (2/ 579) مِنْ طريقٍ عنه. وقال الترمذي «حديث حسن». والحاكم: «صحيح على شرطهما» ووافقه الذهبي، وهو كما قالا. وتابعه قيسُ بنُ الربيع، عَنِ الأعمش ... به: أخرجه الطبري والطبراني (12/ 16 / 12336).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي