صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
232. باب الخروج وكيفية الجهاد - ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه-
خروج اور جہاد کا طریقہ کا بیان - ایک اور خبر جو جو ہماری بات کی تصدیق کرتی ہے
حدیث نمبر: 4716
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، عَنْ أَخِيهِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ، مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ فِي قَوْلِهِ: مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ، بَيَانٌ وَاضِحٌ، أَنَّ الْعَدُوَّ إِذَا كَانَ فِيهِمْ ضِعْفٌ، وَقِلَّةٌ وَالْمُسْلِمُونَ فِيهِمْ قُوَّةٌ وَكَثْرَةٌ، ثُمَّ سَافَرَ أَحَدُهُمْ بِالْقُرْآنِ وَهُوَ فِي وَسَطِ الْجَيْشِ يَأْمَنُ أَنْ لا يَقَعَ ذَلِكَ فِي أَيْدِي الْعَدُوِّ، كَانَ اسْتِعْمَالُ ذَلِكَ الْفِعْلِ مُبَاحًا لَهُ، وَمَتَى أَيِسَ مِمَّا وَصَفْنَا لَمْ يَجُزْ لَهُ السَّفَرُ بِالْقُرْآنِ إِلَى دَارِ الْحَرْبِ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اس بات سے منع کیا ہے قرآن کو ساتھ لے کر دشمن کی سرزمین کی طرف سفر کیا جائے اس اندیشے کے تحت کہ کہیں دشمن اسے نقصان نہ پہنچائے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے یہ الفاظ ”اس اندیشے کے تحت کہ کہیں دشمن اس تک پہنچ نہ جائے“ یہ اس بات کا واضح بیان موجود ہے جب دشمن میں کمزوری بھی ہو اور ان کی تعداد بھی کم ہو اور مسلمانوں میں قوت بھی ہو اور ان کی تعداد بھی زیادہ ہو اور پھر کوئی مسلمان قرآن کو ساتھ لے کر سفر کرے اور وہ لشکر کے درمیان محفوظ حالت میں ہو اس طرح کہ وہ قرآن دشمن کے ہاتھ نہ لگ سکتا ہو تو پھر یہ کام کرنا اس آدمی کے لیے مباح ہو گا، لیکن جب اس طرح کی صورت حال نہ ہو جو ہم نے ذکر کی ہے تو آدمی کے لیے قرآن کو ساتھ لے کر دار الحرب کی طرف سفر کرنا جائز نہیں ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4716]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2990، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1869، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1623، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1142، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4715، 4716، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8006، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2610، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2879، 2880، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 2467، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18306، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4595» «رقم طبعة با وزير 4696»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 4716 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي