صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
260. باب الخروج وكيفية الجهاد - ذكر الإباحة للغزاة أن يبيتوا المشركين ليكون قتلهم إياهم على غرة-
خروج اور جہاد کا طریقہ کا بیان - غزّاہ کے لیے جائز ہے کہ وہ مشرکوں کے پاس رات گزاریں تاکہ ان کا قتل غفلت سے ہو
حدیث نمبر: 4744
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " غَزَوْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ حِينَ بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا، فَبَيَّتْنَا أُنَاسًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَقَتَلْنَاهُمْ، وَكَانَ شِعَارُنَا أَمِتْ، أَمِتْ"، قَالَ: فَقَتَلْتُ بِيَدِي سَبْعَةَ أَهْلِ أَبْيَاتٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ .
ایاس بن سلمہ بن اکوع اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ اس جنگ میں شریک ہوا جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ہمارا امیر مقرر کر کے بھیجا تھا۔ ہم نے کچھ مشرکین پر رات کے وقت حملہ کر کے مار دیا تھا اس وقت ہمارا نعرہ (یا علامتی نعرہ) یہ تھا۔ مار دو مار دو۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس رات میں نے مشرکین کے ساتھ گھرانوں کے افراد کو اپنے ہاتھوں سے قتل کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4744]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4724»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «صحيح أبي داود» (2371).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
الرواة الحديث:
إياس بن سلمة الأسلمي ← سلمة بن الأكوع الأسلمي