صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
262. باب الخروج وكيفية الجهاد - ذكر البيان بأن على المرء إذا أتى دار الحرب أن لا يشن الغارة حتى يصبح-
خروج اور جہاد کا طریقہ کا بیان - جب کوئی دارِ حرب میں داخل ہو تو ضروری ہے کہ صبح تک حملہ نہ کرے
حدیث نمبر: 4746
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى خَيْبَرَ لَيْلا، وَكَانَ إِذَا جَاءَ قَوْمًا بِلَيْلٍ لَمْ يُغِرْ حَتَّى يُصْبِحَ، قَالَ: فَلَمَّا أَصْبَحَ خَرَجَتْ يَهُودُ بِمَسَاحِيهَا وَمَكَاتِلِهَا، فَلَمَّا رَأَوْهُ، قَالُوا: مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت خیبر پہنچے جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت کسی جگہ پہنچتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح ہونے سے پہلے حملہ نہیں کرتے تھے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب صبح ہوئی تو یہودی اپنی کدالیں اور ٹوکرے لے کر نکلے جب انہوں نے (مسلمانوں کے لشکر) کو دیکھا تو بولے: سیدنا محمد اور (ان کا) لشکر آ گئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ اکبر خیبر برباد ہو گیا۔ جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں تو ان لوگوں کی صورتحال بری ہوتی ہے جن کو ڈرایا گیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4746]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4726»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
حميد بن أبي حميد الطويل ← أنس بن مالك الأنصاري