صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
266. باب الخروج وكيفية الجهاد - ذكر الزجر عن قتل الحربي إذا خاف حد السيف فقال أسلمت لله-
خروج اور جہاد کا طریقہ کا بیان - اس بات پر منع کہ جب محارب تلوار کے قریب خوف محسوس کرکے کہے "أسلمت لله" تو اُسے قتل نہ کیا جائے۔
حدیث نمبر: 4750
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقِيتُ رَجُلا مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَقَطَعَ يَدِي، ثُمَّ لاذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ، فَقَالَ: أَسْلَمْتُ لِلَّهِ، أَأَقْتُلُهُ؟ قَالَ:" لا"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ قَطَعَ يَدِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَقْتُلْهُ، فَإِنَّكَ إِنْ قَتَلْتَهُ كَانَ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ، وَكُنْتَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: مَعْنَى قَوْلِهِ: وَكُنْتَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ، يُرِيدُ بِهِ أَنَّكَ إِنْ قَتَلْتَهُ بَعْدَمَا أَنْهَاكَ عَنْهُ مُسْتَحِلا لَهُ، كُنْتَ كَذَلِكَ، وَلَهُ مَعْنًى آخَرُ، وَهُوَ أَنَّكَ إِنْ قَتَلْتَهُ كُنْتَ بِمَنْزِلَتِهِ يُرِيدُ أَنَّكَ تُقْتَلُ قَوَدًا بِهِ كَقَتْلِكَ الْمُسْلِمَ.
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا سامنا کسی مشرک شخص سے ہوتا ہے وہ میرا ہاتھ کاٹ دیتا ہے پھر وہ مجھ سے بچنے کے لیے کسی درخت کے پیچھے جاتا ہے اور یہ کہتا ہے میں نے اللہ کے لیے اسلام قبول کیا، تو کیا میں اسے قتل کر دوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس نے میرا ہاتھ کاٹ دیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے قتل نہ کرو کیونکہ اگر تم نے اس کو قتل کر دیا تو وہ تمہاری جگہ پر آ جائے گا۔ جو تمہارے اسے قتل کرنے سے پہلے تھی اور تم اسکی جگہ پر آ جاؤ گے جو اس کے اس کلمے کو پڑھنے سے پہلے تھی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”تم اس کی جگہ پر آ جاؤ گے جو اس کے اس کلمے پڑھنے سے پہلے تھی اس کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے: جب میں نے تم کو اس سے منع کر دیا۔ اس کے بعد اگر تم اس کو قتل کر دیتے اور تم اس کو حلال سمجتے ہو تو تم اس طرح کے ہو جاؤ گے اور اس حدیث کا ایک دوسرا مفہوم بھی ہے وہ یہ ہے۔ کہ اگر تم نے اسے قتل کر دیا تو تم اس کی جگہ پر آ جاؤ گے۔ اس سے مراد یہ ہے، تمہیں قصاص میں قتل کیا جائے گا۔ جس طرح اگر تم کسی مسلمان کو قتل کر دیتے ہو (تو تمہیں قصاص میں قتل کر دیا جاتا) [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4750]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4730»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - مضى (164).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
الرواة الحديث:
عبيد الله بن عدي القرشي ← المقداد بن الأسود الكندي