صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
269. باب الخروج وكيفية الجهاد - ذكر البيان بأن الأذان إذا سمع في موضع من دور الحرب حرم قتالهم-
خروج اور جہاد کا طریقہ کا بیان - اگر دارِ جنگ کے کسی موضع میں اذان سنی جائے تو وہاں اُن کے ساتھ جنگ کرنا حرام قرار پاتا ہے۔
حدیث نمبر: 4753
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُغِيرُ عِنْدَ صَلاةِ الصُّبْحِ فَيَتَسَمَّعُ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ وَإِلا أَغَارَ، قَالَ: فَاسْتَمَعَ ذَاتَ يَوْمٍ فَإِذَا رَجُلٌ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ: الْفِطْرَةُ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، فَقَالَ: خَرَجَ مِنَ النَّارِ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے وقت حملہ کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے غور سے سنتے تھے اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذان کی آواز آ جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رک جاتے تھے ورنہ حملہ کر دیتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سننے کی کوشش کی تو ایک شخص اللہ اکبر اللہ اکبر کہہ رہا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ فطرت (یعنی دین فطرت پر گامزن ہے) اس شخص نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جہنم سے نکل گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4753]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4733»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2368): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري