🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
290. باب الخروج وكيفية الجهاد - ذكر الاستحباب للإمام أن يري من نفسه الجلد عند فتور المسلمين عن قتال أعداء الله-
خروج اور جہاد کا طریقہ کا بیان - امام کے لیے مستحب ہے کہ جب مسلمانوں میں جنگ میں سستی آئے تو وہ خود سختی اور مثالی ہمت دکھائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4774
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مِهْرَانَ السَّبَّاكُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا نَعْلَمُ بِخَبَرِ الْقَوْمِ الَّذِينَ جَيَّشُوا لَنَا، فَاسْتَقْبَلْنَا وَادِيَ حُنَيْنٍ فِي عَمَايَةِ الصُّبْحِ، وَهُوَ وَادٍ أَجْوَفُ مِنْ أَوْدِيَةِ تِهَامَةَ، إِنَّمَا يَنْحَدِرُونَ فِيهِ انْحِدَارًا، قَالَ: فَوَاللَّهِ إِنَّ النَّاسَ لَيُتَابِعُونَ لا يَعْلَمُونَ بِشَيْءٍ إِذْ فَجِئَهُمُ الْكَتَائِبُ مِنْ كُلِّ نَاحِيَةٍ، فَلَمْ يَنْتَظِرِ النَّاسُ أَنِ انْهَزَمُوا رَاجِعِينَ، قَالَ: وَانْحَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ الْيَمِينِ، وَقَالَ: " أَيْنَ أَيُّهَا النَّاسُ؟ أَنَا رَسُولُ اللَّهِ، وَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ"، وَكَانَ أَمَامَ هَوَازِنَ رَجُلٌ ضَخْمٌ، عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ فِي يَدِهِ رَايَةٌ سَوْدَاءُ، إِذَا أُدْرِكَ طَعَنَ بِهَا، وَإِذَا فَاتَهُ شَيْءٌ بَيْنَ يَدَيْهِ دَفَعَهَا مِنْ خَلْفِهِ، فَرَصَدَ لَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ كِلاهُمَا يُرِيدُهُ، قَالَ: فَضَرَبَ عَلِيٌّ عُرْقُوبَيِ الْجَمَلِ، فَوَقَعَ عَلَى عَجُزِهِ، وَضَرَبَ الأَنْصَارِيُّ سَاقَهُ فَطَرَحَ قَدَمَهُ بِنِصْفِ سَاقِهِ، فَوَقَعَ، وَاقْتَتَلَ النَّاسُ حَتَّى كَانَتِ الْهَزِيمَةُ، وَكَانَ أَخُو صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ لأُمِّهِ، قَالَ: أَلا بَطَلَ السِّحْرُ الْيَوْمَ، وَكَانَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ يَوْمَئِذٍ مُشْرِكًا فِي الْمُدَّةِ الَّتِي ضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ صَفْوَانُ: اسْكُتْ فَضَّ اللَّهُ فَاكَ، فَوَاللَّهِ لأَنْ يَلِيَنِي رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَلِيَنِي رَجُلٌ مِنْ هَوَازِنَ.
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ ہمیں اس بارے میں علم نہیں تھا کہ دشمن نے ہمارے لیے کس طرح کا لشکر تیار کیا ہے ہم حنین کی وادی کے پاس پہنچے یہ صبح کے وقت کی بات ہے۔ یہ تہامہ کی وادیوں میں سے نشیبی وادی تھی۔ لوگ اس میں نیچے کی طرف اتر رہے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! لوگوں کا پیچھا کیا جا رہا تھا پر انہیں اس بات کا پتہ نہ تھا۔ اس دوران ہر طرف سے دستے آنے لگے تو لوگوں نے واپس لوٹنے میں پسپا ہونے کا انتظار نہیں کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں طرف رخ کر کے فرمایا اے لوگو تم کہاں ہو۔ میں اللہ کا رسول ہوں میں محمد بن عبداللہ ہوں (سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) ہوازن قبیلے کے آگے ایک بھاری بھر کم شخص تھا جو سرخ اونٹ پر سوار تھا۔ اس کے ہاتھ میں سیاہ رنگ کا جھنڈا تھا۔ جب کوئی شخص اس تک پہنچ جاتا تو وہ اسے نیزہ مار دیتا اور جب کوئی چیز اس کے سامنے آتی تو وہ اسے اپنے پیچھے کر دیتا۔ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اور انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص دونوں اس کی گھات لگا کر بیٹھ گئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اونٹ کی پشت پر حملہ کیا تو وہ (سردار) گدی کے بل نیچے گر گیا۔ انصاری نے اس کی پنڈلی پر مارا اور اس کا پاؤں نصف پنڈلی کے قریب کاٹ دیا۔ وہ گرا تو لوگوں کے درمیان لڑائی شروع ہو گئی، یہاں تک کہ وہ لوگ پسپا ہو گئے۔ وہ صفوان بن امیہ کا ماں کی طرف سے شریک بھائی تھا۔ انہوں نے کہا: خبردار آج کے دن جادو جھوٹا ثابت ہو گیا۔ سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ اس وقت مشرک تھے۔ یہ بعد کی بات ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان کے سینے وغیرہ پر ضرب لگائی تھی) سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: خاموش رہو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے منہ کو بند کرے اللہ کی قسم! قریش کا کوئی شخص مجھ سے آ ملے یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے، ہوازن قبیلے کا کوئی شخص مجھ سے ملے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4774]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4754»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «تخريج فقه السيرة» (389).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن جابر الأنصاري، أبو عتيق
Newعبد الرحمن بن جابر الأنصاري ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥عاصم بن عمر الأنصاري، أبو محمد، أبو عمرو، أبو عمر
Newعاصم بن عمر الأنصاري ← عبد الرحمن بن جابر الأنصاري
ثقة
👤←👥ابن إسحاق القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newابن إسحاق القرشي ← عاصم بن عمر الأنصاري
صدوق مدلس
👤←👥عبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي، أبو محمد
Newعبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي ← ابن إسحاق القرشي
ثقة
👤←👥جعفر بن مهران السباك، أبو سلمة، أبو النضر
Newجعفر بن مهران السباك ← عبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي
صدوق يخطئ
👤←👥أبو يعلى الموصلي، أبو يعلى
Newأبو يعلى الموصلي ← جعفر بن مهران السباك
ثقة مأمون