صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
332. باب الغنائم وقسمتها - ذكر ما يستحب للإمام استمالة قلوب رعيته عند القسمة بينهم غنائمهم أو خمسا خمسه إذا أحب ذلك-
غنائم اور ان کی تقسیم کا بیان - امامت کے لیے مستحب ہے کہ وہ تقسیم غنیمت یا خمس کرتے وقت رعایا کے دل جیتنے کی کوشش کرے
حدیث نمبر: 4817
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، قَالَ:" قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةً وَلَمْ يُعْطِ مَخْرَمَةَ شَيْئًا، فَقَالَ مَخْرَمَةُ: يَا بُنَيَّ، انْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، قَالَ: ادْخُلْ فَادْعُهُ لِي، قَالَ: فَدَعَوْتُهُ لَهُ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ وَعَلَيْهِ قَبَاءٌ مِنْهَا، وَقَالَ: " قَدْ خَبَّأْتُ هَذَا لَكَ"، قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَضِيَ مَخْرَمَةُ" .
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ قبائیں تقسیم کیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا مخرمہ رضی اللہ عنہ کو کچھ نہیں دیا سیدنا مخرمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم اندر جا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا کر لاؤ۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا کر لایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس باہر تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک قباء تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میں نے تمہارے لیے سنبھال کر رکھی ہوئی تھی۔ راوی بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا مخرمہ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مخرمہ راضی ہو گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4817]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4797»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (2599).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
عبد الله بن أبي مليكة القرشي ← المسور بن مخرمة القرشي