صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
345. باب الغنائم وقسمتها - ذكر ما يجب على الإمام من فك رقبة من تحمل بحمالة المسلمين من خمس خمسه-
غنائم اور ان کی تقسیم کا بیان - امام پر لازم ہے کہ وہ مسلمانوں کی طرف سے لی گئی ضمانت (حمالہ) کو خمسِ خمسہ سے ادا کرے
حدیث نمبر: 4830
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ رِئَابٍ ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلالِيِّ ، قَالَ: تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً عَنْ قَوْمِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً عَنْ قَوْمِي، فَأَعِنِّي فِيهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَلْ نَحْمِلُهُ عَنْكَ"، قَالَ: هِيَ لَكَ فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ إِذَا جَاءَتْ، ثُمَّ قَالَ:" يَا قَبِيصَةُ بْنَ مُخَارِقٍ، إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لا تَحِلُّ، إِلا لإِحْدَى ثَلاثٍ، رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً عَنْ قَوْمِهِ إِرَادَةَ الإِصْلاحِ، فَسَأَلَ حَتَّى إِذَا بَلَغَ أُمْنِيَّتَهُ أَمْسَكَ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ فَشَهِدَ لَهُ ثَلاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ حَتَّى إِذَا أَصَابَ قِوَامًا أَوْ سِدَادًا أَمْسَكَ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ فَسَأَلَ حَتَّى إِذَا أَصَابَ قِوَامًا أَوْ سِدَادًا أَمْسَكَ، وَمَا سِوَى ذَلِكَ يَا قَبِيصَةُ مِنَ الْمَسْأَلَةِ سُحْتٌ"، قَالَهَا ثَلاثًا .
سیدنا قبیصہ بن مخارق بلالی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے اپنی قوم (کے ذمہ لازم) ایک ادائیگی اپنے ذمہ لے لی، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے اپنی قوم کی طرف سے ایک ادائیگی اپنے ذمہ لے لی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بارے میں میری مدد کیجئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری یہ ادائیگی ہم اپنے ذمہ لیتے ہیں جب صدقہ کے اونٹ آئیں گے تو تمہیں یہ (رقم یا ادائیگی کی چیز) مل جائے گی۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے قبیصہ بن مخارق! مانگنا کسی کے لیے بھی جائز نہیں ہے صرف تین قسم کے لوگوں میں کسی ایک کے لیے مانگنا جائز ہے۔ ایک وہ شخص جو بھلائی کے ارادے کے ساتھ اپنی قوم کی طرف سے کوئی ادائیگی اپنے ذمہ لے وہ مانگ سکتا ہے یہاں تک کہ جب اس کی ضرورت پوری ہو جائے تو وہ (مانگنے سے) رک جائے۔ ایک وہ شخص جسے فاقہ لاحق ہو اور اس کی قوم کے تین تجربہ کار افراد اس کے حق میں گواہی دیں (تو وہ شخص مانگ سکتا ہے) یہاں تک کہ جب اس کی ضروریات کا سامان دستیاب ہو جائے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) تو وہ (مانگنے سے) رک جائے۔ ایک وہ شخص جس (کی زرعی پیداوار) کو کوئی آفت لاحق ہو جائے تو وہ مانگ سکتا ہے یہاں تک کہ جب اس کی ضروریات کا سامان دستیاب ہو جائے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) تو وہ مانگنے سے رک جائے۔ اے قبیصہ! اس کے علاوہ جو بھی مانگنا ہو وہ حرام ہو گا۔ یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4830]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4810»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (3280 و 3386 - 3387). تنبيه!! رقم (3280) = (3291) من طبعة المؤسسة. رقم (3386) = (3395) من طبعة المؤسسة. رقم (3387) = (3396) من طبعة المؤسسة. - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
كنانة بن نعيم العدوي ← قبيصة بن المخارق الهلالي