صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
352. باب الغنائم وقسمتها - ذكر البيان بأن سلب القتيل إنما يكون للقاتل إذا كان له عليه بينة-
غنائم اور ان کی تقسیم کا بیان - وضاحت کہ مقتول کا سلب قاتل کو اسی وقت ملتا ہے جب اس کے حق میں گواہی ہو
حدیث نمبر: 4837
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ ثُمَّ السُّلَمِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حُنَيْنٍ، فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ، قَالَ: فَرَأَيْتُ رَجُلا مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ عَلا رَجُلا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ: فَاسْتَدْبَرْتُ لَهُ، حَتَّى أَتَيْتُ مِنْ وَرَائِهِ، فَضَرَبْتُهُ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ ضَرْبَةً، فَقَطَعْتُ الدِّرْعَ، فَأَقْبَلَ عَلَيَّ فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ فِيهَا رِيحَ الْمَوْتِ، ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَأَرْسَلَنِي، فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقُلْتُ: مَا بَالُ النَّاسِ؟ فَقَالَ: أَمْرُ اللَّهِ، قَالَ: إِنَّ النَّاسَ قَدْ رَجَعُوا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَتَلَ قَتِيلا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ، قَالَ أَبُو قَتَادَةَ: فَقُمْتُ، فَقُلْتُ: مَنْ يَشْهَدُ لِي؟ ثُمَّ جَلَسْتُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَتَلَ قَتِيلا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ"، فَقُمْتُ، ثُمَّ قُلْتُ: مَنْ يَشْهَدُ لِي؟ ثُمَّ جَلَسْتُ، ثُمَّ قَالَ ذَلِكَ الثَّالِثَةَ، فَقُمْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا بَالُكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ، قَالَ: فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَسَلَبُ ذَلِكَ الْقَتِيلِ عِنْدِي، فَأَرْضِهِ مِنِّي، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ: لاهَا اللَّهُ إِذًا يَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ وَعَنْ رَسُولِهِ فَيُعْطِيكَ سَلَبَهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَدَقَ فَأَعْطِهِ إِيَّاهُ" ، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: فَأَعْطَانِيهِ، فَبِعْتُ الدِّرْعَ، فَابْتَعْتُ بِهِ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلَمَةَ، فَإِنَّهُ لأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الإِسْلامِ.
سیدنا ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حنین کے سال ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، جب ہمارا (اور دشمن کا) سامنا ہوا (تو جنگ کے دوران) مسلمانوں میں بھگدڑ مچ گئی، میں نے ایک مشرک کو دیکھا کہ وہ ایک مسلمان پر غالب آ چکا تھا، میں گھوم کر اس (مشرک کے) پیچھے آ گیا، میں نے اس کے کندھے پر ضرب لگا کر اس کی زرہ کاٹ دی، وہ میری طرف بڑھا اور اس نے مجھے اتنے زور سے بھینچا کہ مجھے موت کی خوشبو محسوس ہوئی، لیکن پھر وہ مر گیا اور اس نے مجھے چھوڑ دیا، میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملا، میں نے ان سے کہا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: اللہ کا حکم ہے۔ جب لوگ (اس جنگ سے) واپس آ گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے کسی (کافر) کو قتل کیا ہو اور اس کا ثبوت بھی موجود ہو تو مقتول کا ساز و سامان اس شخص کو ملے گا۔“ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں کھڑا ہوا، پھر میں نے سوچا میرے حق میں گواہی کون دے گا؟ تو میں بیٹھ گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے کسی (کافر) کو قتل کیا اور اس کا ثبوت بھی موجود ہو تو اس مقتول کا ساز و سامان اسے ملے گا۔“ میں کھڑا ہوا، پھر مجھے خیال آیا میرے حق میں کون گواہی دے گا؟ میں پھر بیٹھ گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ یہی بات ارشاد فرمائی تو میں کھڑا ہو گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اے ابو قتادہ! کیا معاملہ ہے؟“ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پورا واقعہ سنایا، تو حاضرین میں سے ایک صاحب بولے: یہ ٹھیک کہہ رہے ہیں، اس مقتول کا ساز و سامان میرے پاس ہے، آپ انہیں میری طرف سے راضی کر دیں، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے: ہرگز نہیں، اللہ تعالیٰ کا ایک شیر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جنگ میں حصہ لے اور (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کا سامان تمہیں دے دیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم وہ اسے دے دو۔“ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس نے وہ مجھے دے دیا، میں نے زرہ کو فروخت کر کے بنو سلمہ کے محلے میں کھجوروں کا باغ لے لیا، اسلام قبول کرنے کے بعد یہ وہ پہلی زمین تھی جو میں نے خریدی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4837]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2100، 3142، 4321، 7170، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1751، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1154، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4805، 4837، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2717، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1562، 1562 م، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2528، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2837، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 2695، 2696، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12886، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22954» «رقم طبعة با وزير 4817»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - مضى (4785). تنبيه!! رقم (4785) = (4805) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 4837 in Urdu
نافع بن عياش ← الحارث بن ربعي السلمي