صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
387. باب الموادعة والمهادنة - ذكر البيان بأن كاتب الكتاب بين المصطفى وبين قريش مما وصفنا كان علي بن أبي طالب-
صلح و جنگ بندی کا بیان - بیان کہ وہ کاتب جس نے حدیبیہ کا معاہدہ لکھا، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے۔
حدیث نمبر: 4873
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ:" اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، فَأَبَى أَهْلُ مَكَّةَ أَنْ يَدَعُوهَ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ حَتَّى قَاضَاهُمْ عَلَى أَنْ يُقِيمَ بِهَا ثَلاثَةَ أَيَّامٍ، فَلَمَّا كَتَبُوا الْكِتَابَ كَتَبُوا هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالُوا: لا نُقِرُّ بِهَذَا، لَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ مَا مَنَعْنَاكَ شَيْئًا، وَلَكِنْ أَنْتَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: أَنَا رَسُولُ اللَّهِ، وَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ لِعَلِيٍّ: امْحُ رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: وَاللَّهِ لا أَمْحُوكَ أَبَدًا، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكِتَابَ وَلَيْسَ يُحْسِنُ يَكْتُبُ، فَأَمَرَ، فَكَتَبَ مَكَانَ رَسُولِ اللَّهِ مُحَمَّدًا، فَكَتَبَ هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنْ لا يَدْخَلَ مَكَّةَ بِالسِّلاحِ إِلا السَّيْفَ، وَلا يَخْرُجُ مِنْهَا بِأَحَدٍ يَتْبَعُهُ، وَلا يَمْنَعُ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ إِنْ أَرَادَ أَنْ يُقِيمَ بِهَا، فَلَمَّا دَخَلَهَا وَمَضَى الأَجَلُ أَتَوْا عَلِيًّا، فَقَالُوا: قُلْ لِصَاحِبِكَ فَقَدْ مَضَى الأَجَلُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَبِعَتْهُمْ بِنْتُ حَمْزَةَ تُنَادِي يَا عَمُّ، يَا عَمُّ، فَتَنَاوَلَهَا عَلِيٌّ رِضْوَانَ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَأَخَذَ بِيَدِهَا، وَقَالَ لِفَاطِمَةَ: دُونَكِ ابْنَةَ عَمِّكِ، فَحَمَلَتْهَا، فَاخْتَصَمَ فِيهَا عَلِيٌّ وَزَيْدٌ وَجَعْفَرٌ، فَقَالَ عَلِيٌّ: أَنَا أَخَذْتُهَا وَهِيَ ابْنَةُ عَمِّي، وَقَالَ جَعْفَرٌ: ابْنَةُ عَمِّي وَخَالَتُهَا تَحْتِي، وَقَالَ زَيْدٌ: ابْنَةُ أَخِي فَقَضَى بِهَا رَسُولُ اللَّهِ لِخَالَتِهَا، وَقَالَ: الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الأُمِّ، وَقَالَ لِعَلِيٍّ: أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ، وَقَالَ لِجَعْفَرٍ: أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي، وَقَالَ لِزَيْدٍ: أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلانَا" .
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ذی القعدہ کے مہینے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا تو اہل مکہ نے آپ کو مکہ میں داخل ہونے سے منع کر دیا۔ یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ یہ معاہدہ کیا کہ وہ مکہ میں تین دن قیام کریں گے۔ جب ان لوگوں نے معاہدہ تحریر کر دیا تو انہوں نے یہ بات تحریر کی کہ یہ وہ معاہدہ ہے جو اللہ کے رسول سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کر رہے ہیں تو کفار نے کہا:۔ ہم اس بات کو تسلیم نہیں کرتے۔ اگر ہمیں یہ پتہ ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی چیز سے نہ روکتے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم محمد بن عبداللہ ہیں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ ہی تحریر کریں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ کا رسول بھی ہوں اور محمد بن عبداللہ بھی ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا لفظ ”رسول اللہ“ مٹا دو۔ انہوں نے عرض کی: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم (کا اسم گرامی) کبھی نہیں مٹاؤں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تحریر کو لیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو باقاعدہ لکھنا نہیں آتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت لفظ رسول اللہ کی جگہ لفظ محمد لکھ دیا گیا اور یہ تحریر کیا گیا یہ وہ معاہدہ ہے جو محمد بن عبداللہ کر رہے ہیں۔ کہ وہ ہتھیار لے کر مکہ میں داخل نہیں ہوں گے البتہ ان کی تلواریں میان میں ہوں گی اور وہ مکہ میں سے کسی ایسے شخص کو ساتھ لے کر نہیں جائیں گے جو ان کا پیروکار ہو گا اور وہ اپنے ساتھیوں میں سے کسی ایسے شخص کو نہیں روکیں گے جو مکہ میں مقیم رہنا چاہے گا۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لے آئے اور طے شدہ مدت گزر گئی تو لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: کہ اپنے آقا سے کہیے کہ وہ ہمارے پاس سے تشریف لے جائیں، کیونکہ متعین مدت پوری ہو گئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے روانہ ہونے لگے تو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارتی ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے آئی۔ اے چچا اے چچا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس بچی کو پکڑ لیا انہوں نے اس بچی کا ہاتھ پکڑا اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا۔ تم اپنی چچازاد کو سنبھالو۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اسے اٹھا لیا۔ اس لڑکی کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا زید رضی اللہ عنہ اور سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے درمیان اختلاف ہو گیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسے میں نے حاصل کیا ہے۔ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ میری چچازاد ہے اور اس کی خالہ میری بیوی ہے۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ میری بھتیجی ہے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچی کے بارے میں اس کی خالہ کے حق میں فیصلہ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خالہ ماں کی جگہ ہوتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم شکل و صورت اور اخلاق میں مجھ سے مشابہت رکھتے ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم ہمارے بھائی اور ہمارے آزاد کردہ غلام ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4873]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4853»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1182)، «الإرواء» (2190).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
الرواة الحديث:
أبو إسحاق السبيعي ← البراء بن عازب الأنصاري