صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
399. باب الذمي والجزية - ذكر الخبر الدال على إباحة مخالطة المسلم للمشرك في البيع والشراء والقبض والاقتضاء-
اہلِ ذِمّہ اور جِزیہ کا بیان - وہ خبر جو مسلمان کے لیے مشرک کے ساتھ خرید و فروخت اور لین دین کی اجازت پر دلالت کرتی ہے۔
حدیث نمبر: 4885
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ خَبَّابٍ ، قَالَ: " كُنْتُ رَجُلا قَيْنًا، وَكَانَ لِي عَلَى الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ دَيْنٌ، فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ، فَقَالَ لِي: لا أَقْضِيكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ، قَالَ: قُلْتُ: لَنْ أَكْفُرَ بِهِ حَتَّى تَمُوتَ، ثُمَّ تُبْعَثَ، قَالَ: وَإِنِّي لَمَبْعُوثٌ بَعْدَ الْمَوْتِ سَوْفَ أَقْضِيكَ إِذَا رَجَعْتَ إِلَيَّ مَالِي وَوَلَدِي، قَالَ: فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لأُوتَيَنَّ مَالا وَوَلَدًا سورة مريم آية 77" .
سیدنا خباب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک سنار تھا۔ میں نے عاص بن وائل سے کچھ قرض واپس لینا تھا۔ میں اس کے پاس آیا اور اس سے قرض کا تقاضا کیا۔ اس نے مجھ سے کہا: میں اس وقت تک تمہارا قرض ادا نہیں کروں گا۔ جب تک تم سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہیں کر دیتے۔ سیدنا خباب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان کا اس وقت تک انکار نہیں کروں گا جب تک تم مر نہیں جاتے اور دوبارہ زندہ نہیں ہوتے۔ اس نے کہا: کہ اگر مجھے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے گا تو میں تمہارا قرض ادا کر دوں گا۔ کیونکہ اس وقت میرا مال اور میری اولاد مجھے دوبارہ واپس مل جائیں گے۔ راوی بیان کرتے ہیں، تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ”کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جو ہماری آیات کا انکار کرتا ہے اور یہ کہتا ہے مجھے مال اور اولاد ضرور دیئے جائیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4885]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4865»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
مسروق بن الأجدع الهمداني ← خباب بن الأرت التميمي