صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
98. باب البيع المنهي عنه - ذكر البيان بأن العرية التي رخص فيها هي بيع بعض الرطب بالثمر-
ممنوعہ بیوع کا بیان - بیان کہ عریہ سے مراد تر کھجوروں کو خشک کھجوروں کے بدلے بیچنا ہے
حدیث نمبر: 5002
أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالثَّمَرِ، وَرَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا، وَالْعَرِيَّةُ أَنْ يَأْكُلَهَا أَهْلُهَا رُطَبًا" .
سیدنا سہل بن ابوحثمہ رضی اللہ عنہ کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کے عوض میں پھل کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے البتہ آپ نے عریہ کے بارے میں اجازت دی ہے، اسے اندازے کے تحت فروخت کیا جا سکتا ہے ”عریہ“ یہ ہے: اس کے اہل خانہ تازہ کھجوریں کھا لیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 5002]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4981»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «أحاديث البيوع»: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
بشير بن يسار الحارثي ← سهل بن أبي حثمة الأنصاري