یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
2. ذكر العلة التي من أجلها أمر بهذا الأمر-
- اس علت (حکمت) کا بیان جس کی بنا پر اس حکم کا دیا جانا واقع ہوا۔
حدیث نمبر: 5081
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ مِنْ كِتَابِهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ الْكَوْسَجُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ: " إِنَّكَ سَتَأْتِي قَوْمًا أَهْلَ كِتَابٍ، فَإِذَا جِئْتَهُمْ فَادْعُهُمْ إِلَى أَنْ يَشْهَدُوا أَنَّ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَإِذَا أَطَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٍ خَمْسًا فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا فَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ، فَإِنْ أَطَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَ اللَّهِ وَبَيْنَهُ حِجَابٌ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ کو یمن بھیجا تو آپ نے فرمایا تم اہل کتاب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے پاس جا رہے ہو تم ان کے پاس جاؤ، تو اس بات کی دعوت دو کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اگر وہ اس بارے میں تمہاری بات مان لیں، تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر روزانہ پانچ نمازیں فرض کی ہیں اس بارے میں بھی اگر تمہاری بات مان لیں، تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکوۃ فرض کی ہے جو ان کے خوشحال لوگوں سے وصول کی جائے گی اور ان کے غریب لوگوں کی طرف لوٹا دی جائے گی۔ اگر وہ اس بارے میں بھی تمہاری بات مان لیں، تو تم لوگوں کے عمدہ مال حاصل کرنے سے بچنا اور مظلوم کی بد دعا سے بچنا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اور اس کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الدعوى/حدیث: 5081]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1395، 1458، 1496، 2448، 4347، 7371، 7372، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 19، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2275، 2346، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 156، 2419، 5081، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2434، 2521، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2226، 2313، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1584، والترمذي فى (جامعه) برقم: 625، 2014، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1783،والدارقطني فى (سننه) برقم: 2058، 2059، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2100، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 9924» «رقم طبعة با وزير 5058»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1412): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 5081 in Urdu
نافذ مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي