صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
12. ذكر البيان بأن الدار التي أعمرت لا ترجع إلى الذي أعمرها وإن مات الذي أعمرت له-
- اس وضاحت کا بیان کہ «عمرٰی» میں دی گئی جائیداد واپس دینے والے کو نہیں لوٹتی، چاہے معمر لہ فوت ہی کیوں نہ ہو جائے۔
حدیث نمبر: 5137
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَيُّمَا رَجُلٍ أُعْمِرَ عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ، فَإِنَّهَا لِلَّذِي أُعْطِيَهَا لا تَرْجِعُ إِلَى الَّذِي أَعْطَاهَا، لأَنَّهُ أَعْطَى عَطِيَّةً وَقَعَتْ فِيهَا الْمَوَارِيثُ" .
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جس شخص کو عمریٰ کے طور پر کوئی چیز دی گئی وہ اس کی ملکیت ہو گی اور اس کے پسماندگان کی ہو گی کیونکہ یہ اس کی ملکیت ہے جسے دی گئی تھی جس نے دی تھی وہ اسے واپس نہیں لے سکتا کیونکہ اس نے ایک ایسا عطیہ دیا ہے جس میں وراثت کے احکام جاری ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقبى والعمرى/حدیث: 5137]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5115»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1607): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← جابر بن عبد الله الأنصاري | ثقة إمام مكثر | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله مالك بن أنس الأصبحي ← محمد بن شهاب الزهري | رأس المتقنين وكبير المتثبتين | |
👤←👥أحمد بن أبي بكر القرشي، أبو مصعب أحمد بن أبي بكر القرشي ← مالك بن أنس الأصبحي | ثقة | |
👤←👥عمر بن سنان المنبجي، أبو بكر عمر بن سنان المنبجي ← أحمد بن أبي بكر القرشي | ثقة |
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← جابر بن عبد الله الأنصاري