صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
3. ذكر العلة التي من أجلها قال صلى الله عليه وسلم للكباث الأسود إنه أطيب من غيره-
- یہ بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیاہ کباث (پھل) کے بارے میں کیوں فرمایا کہ یہ دوسرے سے زیادہ عمدہ ہے۔
حدیث نمبر: 5144
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَجْتَنِي الْكَبَاثَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكُمْ بِالأَسْوَدِ مِنْهُ، فَإِنَّهُ أَطْيَبُ، وَإِنِّي كُنْتُ آكُلُهُ زَمَنَ كُنْتُ أَرْعَى"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكُنْتَ تَرْعَى؟ فَقَالَ:" وَهَلْ بُعِثَ نَبِيٌّ إِلا وَهُوَ رَاعٍ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم پیلو چن رہے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان میں سے سیاہ رنگ کے چنو کیونکہ وہ زیادہ پاکیزہ ہوتے ہیں۔ میں انہیں اس زمانے میں کھایا کرتا تھا، جب میں بکریاں چراتا تھا۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! کیا آپ بکریاں چراتے رہے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس بھی نبی کو مبعوث کیا گیا اس نے بکریاں چرائی ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإجارة/حدیث: 5144]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3406، 5453، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2050، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5143، 5144، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 6701، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14721، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 1798، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 2062» «رقم طبعة با وزير 5122»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 5144 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← جابر بن عبد الله الأنصاري