صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
12. باب آداب الشرب - ذكر استعمال المصطفى صلى الله عليه وسلم هذا الفعل المزجور عنه-
پینے کے آداب کا بیان - یہ استعمال جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کیا، حالانکہ زجر کیا گیا
حدیث نمبر: 5326
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي النَّزَّالُ بْنُ سَبْرَةَ ، قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ عَلِيٍّ الظُّهْرَ، ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الرَّحْبَةِ، قَالَ: فَدَعَا بِإِنَاءٍ فِيهِ شَرَابٌ، فَأَخَذَهُ، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، وَمَسَحَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَرَأْسَهُ وَقَدَمَيْهِ، ثُمَّ شَرِبَ فَضْلَهُ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ نَاسًا يَكْرَهُونَ أَنْ يَشْرَبُوا وَهُمْ قِيَامٌ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعْتُ، وَقَالَ:" هَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ" .
نزال بن سبرو بیان کرتے ہیں: ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں ظہر کی نماز ادا کی پھر ہم کھلے میدان میں آ گئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے برتن منگوایا جس میں پانی موجود تھا۔ انہوں نے اسے لیا کلی کی ناک میں پانی ڈالا اپنے چہرے اور دونوں بازو اپنے سر اور دونوں پاؤں پر ہاتھ پھیرا پھر انہوں نے بچے ہوئے پانی کو کھڑے ہو کر پی لیا پھر انہوں نے یہ بات بتائی: کچھ لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو ناپسند کرتے ہیں حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا تھا جس طرح میں نے کیا ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا تھا: یہ اس شخص کا وضو ہے جو بے وضو نہ ہوا ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5326]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5302»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «مختصر الشمائل» (179)، «صحيح أبي داود» (105).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
الرواة الحديث:
النزال بن سبرة الهلالي ← علي بن أبي طالب الهاشمي