صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
95. فصل في الأشربة - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم أباح لهم ذلك-
پانیوں (مشروبات) کے بیان میں ایک فصل - یہ بیان کہ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر اجازت دی
حدیث نمبر: 5415
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَاتَتْ شَاةٌ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَاتَتْ فُلانَةُ، تَعْنِي الشَّاةَ، قَالَ: " فَهَلا أَخَذْتُمْ مَسْكَهَا، فَقَالَتْ: نَأْخُذُ مَسْكَ شَاةٍ قَدْ مَاتَتْ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا قَالَ: قُلْ لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا سورة الأنعام آية 145، لا بَأْسَ أَنْ تَدْبُغُوهُ، تَنْتَفِعُونَ بِهِ"، قَالَتْ: فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا، فَسَلَخَتْ مَسْكَهَا، فَاتَّخَذَتْ مِنْهُ قِرْبَةً حَتَّى تَخَرَّقَتْ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کی بکری مر گئی۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) فلاں مر گئی ہے۔ ان کی مراد بکری تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اس کی کھال کو حاصل کیوں نہیں کیا۔ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: کیا ہم ایسی بکری کی کھال حاصل کریں جو مر چکی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم یہ فرما دو جو چیز میری طرف وحی کی گئی ہے اس میں، میں کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جو کھانے والے کے لئے حرام قرار دی گئی ہو ماسوائے اس کے جو مردار ہو یا بہا ہوا خون ہو۔“
(پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) اس میں کوئی حرج نہیں ہے تم اس کی دباغت کر کے اس سے فائدہ حاصل کرو۔ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، تو ہم نے اس کو بھجوایا اور اس کی کھال کی دباغت کر لی گئی پھر ہم نے اس کے ذریعے مشکیزہ بنا لیا یہاں تک کہ اس میں سوراخ ہو گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5415]
(پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) اس میں کوئی حرج نہیں ہے تم اس کی دباغت کر کے اس سے فائدہ حاصل کرو۔ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، تو ہم نے اس کو بھجوایا اور اس کی کھال کی دباغت کر لی گئی پھر ہم نے اس کے ذریعے مشکیزہ بنا لیا یہاں تک کہ اس میں سوراخ ہو گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأشربة/حدیث: 5415]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5391»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (1278). تنبيه!! رقم (1278) = (1281) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس | صحابي | |
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي | ثقة | |
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة سماك بن حرب الذهلي ← عكرمة مولى ابن عباس | صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة | |
👤←👥الوضاح بن عبد الله اليشكري، أبو عوانة الوضاح بن عبد الله اليشكري ← سماك بن حرب الذهلي | ثقة ثبت | |
👤←👥محمد بن أبي بكر المقدمي، أبو عبد الله محمد بن أبي بكر المقدمي ← الوضاح بن عبد الله اليشكري | ثقة | |
👤←👥أبو يعلى الموصلي، أبو يعلى أبو يعلى الموصلي ← محمد بن أبي بكر المقدمي | ثقة مأمون |
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي