صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
7. ذكر ما يستحب للمرء ترك كسوة الحيطان بالأشياء التي يريد بها التجمل دون الارتفاق-
- اس باب میں ذکر ہے کہ دیواروں کو محض زیبائش کے لیے سجانے سے بہتر ہے سادگی اختیار کی جائے۔
حدیث نمبر: 5468
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ أَبِي الْحُبَابِ مَوْلَى بَنِي النَّجَّارِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لا تَدْخُلُ الْمَلائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ أَوْ تِمْثَالٌ" . فَقُلْتُ: أَنْطَلِقُ إِلَى عَائِشَةَ ، فَأَسْأَلُهَا عَنْ ذَلِكَ، فَأَتَيْتُهَا، فَقُلْتُ: يَا أُمَّهْ، إِنَّ هَذَا حَدَّثَنِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ الْمَلائِكَةَ لا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ تِمْثَالٌ أَوْ كَلْبٌ، فَهَلْ سَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ ذَلِكَ؟ قَالَتْ:" لا، وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكُمْ مَا رَأَيْتُهُ فَعَلَ: خَرَجَ فِي بَعْضِ غَزَوَاتِهِ، فَكُنْتُ أَتَحَيَّنُ قُفُولَهُ، فَأَخَذْتُ نَمَطًا، فَسَتَرْتُهُ عَلَى الْمَعْرِضِ، فَلَمَّا جَاءَ، اسْتَقْبَلْتُهُ عَلَى الْبَابِ، فَقُلْتُ: السَّلامُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَعَزَّكَ وَنَصَرَكَ وَأَكْرَمَكَ، فَنَظَرَ إِلَى الْبَيْتِ، فَرَأَى فِيهِ النَّمَطَ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ شَيْئًا، وَرَأَيْتُ الْكَرَاهَةَ فِي وَجْهِهِ، فَجَذَبَهُ حَتَّى هَتَكَهُ أَوْ قَطَعَهُ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَأْمُرْنَا فِيمَا رَزَقَنَا أَنْ نَكْسُوَ الطِّينَ وَالْحِجَارَةَ، قَالَتْ: فَقَطَعْتُهُ قِطْعَتَيْنِ وَحَشَوْتُهُمَا لِيفًا، فَلَمْ يَعِبْ ذَلِكَ عَلَيَّ" .
سیدنا ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر موجود ہو۔“
راوی بیان کرتے ہیں: میں نے سوچا میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر ان سے اس بارے میں دریافت کروں گا۔ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے کہا: اے امی جان ایک صاحب نے مجھے یہ حدیث سنائی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر یا کتا موجود ہو۔“ کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں ذکر کرتے ہوئے سنا ہے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا جی نہیں لیکن میں تمہیں وہ بات بتاتی ہوں جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوے میں شرکت کے لئے تشریف لے گئے جب آپ کے واپس آنے کا وقت ہوا تو میں نے ایک کپڑا لیا اور اسے پردے کے طور پر لٹکا دیا۔ جب آپ تشریف لائے تو میں نے دروازے پر آپ کا استقبال کیا۔ میں نے عرض کی: آپ پر سلام ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہو ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جس نے آپ کو عزت عطا کی۔ آپ کی مدد کی اور آپ کی عزت افزائی کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر کی طرف دیکھا تو آپ کو وہ پردہ نظر آیا آپ نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔ مجھے آپ کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار محسوس ہو گئے۔ میں نے وہ پردہ اتار کر اسے پھاڑ دیا۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اسے کاٹ دیا۔
پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو رزق عطا کیا ہے اس کے بارے میں ہمیں یہ حکم نہیں دیا کہ ہم مٹی اور پتھروں کو لباس پہنائیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے کپڑے کے دو حصے کئے اور ان میں پتے بھر دیئے۔ (یعنی ان کے تکیے بنا لئے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حوالے سے مجھ پر اعتراض نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5468]
راوی بیان کرتے ہیں: میں نے سوچا میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر ان سے اس بارے میں دریافت کروں گا۔ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے کہا: اے امی جان ایک صاحب نے مجھے یہ حدیث سنائی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر یا کتا موجود ہو۔“ کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں ذکر کرتے ہوئے سنا ہے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا جی نہیں لیکن میں تمہیں وہ بات بتاتی ہوں جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوے میں شرکت کے لئے تشریف لے گئے جب آپ کے واپس آنے کا وقت ہوا تو میں نے ایک کپڑا لیا اور اسے پردے کے طور پر لٹکا دیا۔ جب آپ تشریف لائے تو میں نے دروازے پر آپ کا استقبال کیا۔ میں نے عرض کی: آپ پر سلام ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہو ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جس نے آپ کو عزت عطا کی۔ آپ کی مدد کی اور آپ کی عزت افزائی کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر کی طرف دیکھا تو آپ کو وہ پردہ نظر آیا آپ نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔ مجھے آپ کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار محسوس ہو گئے۔ میں نے وہ پردہ اتار کر اسے پھاڑ دیا۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اسے کاٹ دیا۔
پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو رزق عطا کیا ہے اس کے بارے میں ہمیں یہ حکم نہیں دیا کہ ہم مٹی اور پتھروں کو لباس پہنائیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے کپڑے کے دو حصے کئے اور ان میں پتے بھر دیئے۔ (یعنی ان کے تکیے بنا لئے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حوالے سے مجھ پر اعتراض نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5468]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5444»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «آداب الزفاف» (109 - 112): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
أبو طلحة الأنصاري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق