صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
39. ذكر لعن المصطفى صلى الله عليه وسلم المستوشمات والواشمات-
- باب اس لعنت کا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گودنے والی اور گودوانے والی عورتوں پر لعنت فرمائی۔
حدیث نمبر: 5504
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَتْ: إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَقُولُ: " لُعِنَتِ الْوَاشِمَةُ وَالْمُسْتَوْشِمَةُ، وَالنَّامِصَةُ وَالْمُتَنَمِّصَةُ" ، وَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ، فَمَا وَجَدْتُ مَا تَقُولُ، قَالَ: بَلَى، وَجَدْتِ، وَلَكِنَّكِ لا تَعْلَمِينَ، قَالَتْ: وَأَيْنَ هُوَ؟ قَالَ: أَمَا قَرَأْتِ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا سورة الحشر آية 7، قَالَتْ: بَلَى، قَالَ: هُوَ ذَاكَ، قَالَتْ: أَمَا إِنِّي لأَرَى عَلَى أَهْلِكَ بَعْضَ ذَلِكَ، قَالَ: فَادْخُلِي فَانْظُرِي، فَدَخَلَتْ فَنَظَرَتْ، فَلَمْ تَرَ شَيْئًا، فَقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ: هَلْ رَأَيْتِ شَيْئًا؟ قَالَتْ: لا، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَمَا إِنَّكِ لَوْ رَأَيْتِ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ، مَا صَحِبْنَنِي.
علقمہ بیان کرتے ہیں: بنو اسد سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون سیدنا عبداللہ بن مسعود کے پاس آئی وہ بولی: مجھے یہ پتہ چلا ہے آپ یہ کہتے ہیں: کہ گودنے والی اور گدوانے والی بال نوچنے والی اور بال نچوانے والی عورت پر لعنت کی گئی ہے حالانکہ میں نے پورا قرآن پڑھا ہے۔ مجھے اس میں وہ چیز نہیں ملی جو آپ بیان کرتے ہیں، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا تمہیں وہ بات مل جانی تھی، لیکن تمہارے پاس علم نہیں ہے اس نے دریافت کیا: وہ کیا ہے تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم نے نے یہ آیت نہیں پڑھی۔ ”رسول تمہیں جو (حکم) دیں اسے حاصل کر لو اور جس چیز سے وہ تمہیں منع کرتے ہیں باز آ جاؤ۔“ اس عورت نے جواب دیا: جی ہاں تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس سے مراد یہی ہے اس عورت نے کہا: میرا یہ خیال ہے آپ کی ایک زوجہ محترمہ بھی اس طرح کا کوئی کام کرتی ہیں، تو سیدنا عبداللہ بن مسعو د رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم گھر کے اندر جاؤ اور اسے دیکھ لو وہ عورت گھر کے اندر گئی۔ اس نے جائزہ لیا تو اسے ایسی کوئی چیز نظر نہیں آئی۔ سیدنا عبداللہ نے اس عورت سے دریافت کیا تم نے کوئی ایسی چیز دیکھی ہے؟ اس نے جواب دیا: جی نہیں۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تم اس میں سے کوئی چیز دیکھ لیتی تو وہ (یعنی ایسا کام کرنے والی بیوی) میرے ساتھ نہ رہتی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5504]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5480»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «ابن ماجه» (1989): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
علقمة بن قيس النخعي ← عبد الله بن مسعود