صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
60. باب آداب النوم - ذكر العلة التي من أجلها أمر بهذا الفعل-
سونے کے آداب کا بیان - بیان کیا گیا کہ اس عمل کا سبب کیا ہے
حدیث نمبر: 5526
أَخْبَرَنَا الصُّوفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " هَلْ لَكَ فِي رَبِيبَةٍ لَنَا، فَتَكْفُلُهَا زَيْنَبُ؟ قَالَ: ثُمَّ جَاءَ، فَسَأَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: تَرَكْتُهَا عِنْدَ أُمِّهَا، قَالَ: فَمَجِيءٌ مَا جَاءَ بِكَ؟ قَالَ: جِئْتُ لِتُعَلِّمَنِي شَيْئًا أَقُولُهُ عِنْدَ مَنَامِي، قَالَ: اقْرَأْ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، ثُمَّ نَمْ عَلَى خَاتِمَتِهَا، فَإِنَّهَا بَرَاءَةٌ مِنَ الشِّرْكِ" .
فروہ بن نوفل اپنے والد (سیدنا نوفل رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہیں ہماری سوتیلی صاحب زادی (کی تعلیم و تربیت) میں دلچسپی ہے تاکہ زینب اس کی کفالت کرے؟“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے (اس بچی کے بارے میں) دریافت کیا تو انہوں نے عرض کی: میں اسے اس کی ماں کے پاس چھوڑ کر آیا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”پھر تم کس کام سے آئے ہو؟“ انہوں نے عرض کی: میں اس لیے آیا ہوں تاکہ آپ مجھے کسی ایسی چیز کی تعلیم دیجیے جسے میں سوتے وقت پڑھ لیا کروں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم «سُورَةَ الْكَافِرُونَ» ”سورت الکافرون“ کی تلاوت کیا کرو اور ان اختتامی کلمات کے ہمراہ سو جایا کرو، یہ سورت شرک سے بری الذمہ ہونے کا اظہار ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5526]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 789، 790، 5525، 5526، 5545، 5546، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2085، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5055، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3403، 3403 م، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 128، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24330» «رقم طبعة با وزير 5501»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره دون: «هل لك ... » إلى: تركتها عند أمها - «التعليق الرغيب» (1/ 209)، «التعليقات الحسان» (786 و 787)، «المشكاة» (2161 / التحقيق الثاني)، «صحيح الموارد»، وسيأتي (5520). تنبيه!! أولا: قول الألباني رحمه الله «التعليقات الحسان» (786 و 787) يقصد هذا الكتاب أي تكرر في كتاب «التعليقات الحسان» بالأرقام المشار إليها. ثانيا: رقم (786) = (789) من «طبعة المؤسسة». رقم (787) = (790) من «طبعة المؤسسة». رقم (5520) = (5545) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 5526 in Urdu
فروة بن نوفل الأشجعي ← نوفل بن فروة الأشجعي