صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
15. ذكر الزجر عن إتباع المرء النظرة النظرة إذ استعمالها يزرع في القلب الأماني-
- باب اس زجر کا کہ انسان ایک نظر کے بعد دوسری نظر نہ ڈالے کیونکہ یہ دل میں خواہشات پیدا کرتی ہے۔
حدیث نمبر: 5571
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْرَقُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَبِي الزَّرْقَاءِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ:" سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَظْرَةِ الْفُجَاءَةِ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَصْرِفَ بَصَرِي" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: الأَمْرُ بِصَرْفِ الْبَصَرِ أَمَرُ حَتْمٍ عَمَّا لا يَحِلُّ، وَهُوَ مُقِرُّونٌ بِالزَّجْرِ عَنْ ضِدِّهِ، وَهُوَ النَّظَرُ إِلَى مَا حَرُمَ.
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اچانک پڑ جانے والی نظر کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے مجھے یہ ہدایت کی کہ میں اپنی نگاہ کو پھیر لوں۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نظر کو پھیرنے کا حکم لازمی طور پر ہے جو اس چیز کے بارے میں ہے جو جائز نہیں ہے اور یہ اس کی متضاد سے ممانعت کے ہمراہ ملا ہوا ہے اور وہ چیز یہ ہے، جسے حرام قرار دیا گیا ہو اس کی طرف (دیکھنا منع ہے)
[صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5571]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نظر کو پھیرنے کا حکم لازمی طور پر ہے جو اس چیز کے بارے میں ہے جو جائز نہیں ہے اور یہ اس کی متضاد سے ممانعت کے ہمراہ ملا ہوا ہے اور وہ چیز یہ ہے، جسے حرام قرار دیا گیا ہو اس کی طرف (دیکھنا منع ہے)
[صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5571]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5545»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الجلباب» -أيضا- (78).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
أبو زرعة بن عمرو البجلي ← جرير بن عبد الله البجلي