صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
63. فصل فيما يتعلق بالدواب - ذكر وصف عذاب هذه المرأة التي ربطت الهرة حتى ماتت-
جانوروں سے متعلق احکام کے بیان میں ایک فصل - بیان کیا گیا کہ اس عورت کے لیے عذاب کیسی ہوگی جس نے بلی کو باندھ کر مار دیا
حدیث نمبر: 5622
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ:" انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ وَقُمْنَا، فَصَلَّى، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا يُحَدِّثُنَا، فَقَالَ:" لَقَدْ عُرِضَتَ عَلَيَّ الْجَنَّةُ، حَتَّى لَوْ شِئْتُ لَتَعَاطَيْتُ مِنْ قُطُوفِهَا، وَعُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ، فَلَوْلا أَنِّي دَفَعْتُهَا عَنْكُمْ، لَغَشِيَتْكُمْ، وَرَأَيْتُ فِيهَا ثَلاثَةً يُعَذَّبُونَ: امْرَأَةً حِمْيَرِيَّةً سَوْدَاءَ طَوِيلَةً، تُعَذَّبُ فِي هِرَّةٍ لَهَا، أَوْثَقَتْهَا فَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ، وَلَمْ تُطْعِمْهَا حَتَّى مَاتَتْ، فَهِيَ إِذَا أَقْبَلَتْ تَنْهَشُهَا، وَإِذَا أَدْبَرَتْ تَنْهَشُهَا، وَرَأَيْتُ أَخَا بَنِي دَعْدَعٍ صَاحِبَ السَّائِبِتَيْنِ يُدْفَعُ بِعَمُودَيْنِ فِي النَّارِ، وَالسَّائِبَتَانِ: بَدَنَتَانِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرَقَهُمَا، وَرَأَيْتُ صَاحِبَ الْمِحْجَنِ مُتَّكِئًا عَلَى مِحْجَنِهِ، وَكَانَ صَاحِبُ الْمِحْجَنِ يَسْرِقُ مَتَاعَ الْحُجَّاجِ بِمِحْجَنِهِ، فَإِذَا خَفِيَ لَهُ ذَهَبَ بِهِ، وَإِذَا ظَهَرَ عَلَيْهِ، قَالَ: إِنِّي لَمْ أَسْرِقْ، إِنَّمَا تَعَلَّقَ بِمِحْجَنِي" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ہم بھی کھڑے ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی۔ اس کے بعد بات چیت کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے سامنے جنت کو پیش کیا گیا۔ یہاں تک کہ اگر میں چاہتا، تو اس کے خوشے کو حاصل کر لیتا۔ میرے سامنے جہنم کو پیش کیا گیا اگر میں اسے پرے نہ کرتا تو وہ تمہیں اپنی لپیٹ میں لے لیتی۔ میں نے اس میں تین لوگوں کو دیکھا، جنہیں عذاب دیا جا رہا تھا۔ ایک یمن کی رہنے والی سیاہ فام لمبی عورت تھی جسے ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا تھا۔ اس نے اس بلی کو باندھ دیا تھا۔ اسے چھوڑا نہیں تھا کہ وہ خود ہی کچھ کھا لیتی۔ اس نے اس بلی کو کچھ کھانے کے لیے نہیں دیا یہاں تک کہ وہ بلی مر گئی تو وہ بلی اس کی طرف آتی تھی، پھر وہ اس کے پیچھے کی طرف سے آتی تھی اور اسے نوچتی تھی۔ (میں نے جہنم میں) بنو دعدع سے تعلق رکھنے والے اس شخص کو دیکھا جس کا دو اونٹنیوں کا معاملہ تھا جسے جہنم میں دو ستونوں کے درمیان باندھا ہوا تھا (راوی بیان کرتے ہیں) وہ دو اونٹنیاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں میں سے تھیں، جنہیں اس شخص نے چوری کر لیا تھا (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) میں نے لاٹھی والے شخص کو دیکھا جو لاٹھی کے ذریعے ٹیک لگائے ہوئے تھا۔ یہ شخص اپنی لاٹھی کے ذریعے حاجیوں کا ساز و سامان چوری کیا کرتا تھا، جب اس کی چوری پوشیدہ رہتی تھی تو وہ سامان لے جایا کرتا تھا جب پکڑی جاتی تھی تو یہ کہتا تھا: ”میں نے چوری نہیں کی۔ یہ چیز تو میری لاٹھی کے ساتھ لٹک گئی تھی۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5622]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1045، 1051، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 910، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 901، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2829، 2838، 5622، 7489، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1233، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1194، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3414، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6594» «رقم طبعة با وزير 5593»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - جزء الكسوف «صحيح أبي داود» (484/ 596) *. *قال الشيخ: فيه بيان أنه لا يصح من فقرة (2) إلا السرقة، وأن (أخا بَنِي دعدع) هو صاحب المحجن، وأن الخط من (عطاء بن السائب) المختلط. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 5622 in Urdu
السائب بن مالك الثقفي ← عبد الله بن عمرو السهمي