الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
78. باب قتل الحيوان - ذكر الأمر بقتل المرء الحية إذا رآها في داره بعد إعلامه إياها ثلاثة أيام ولاء-
جانور کے قتل (مارنے) کا بیان - ذکر اس حکم کا کہ اگر آدمی کسی سانپ کو اپنے گھر میں دیکھے تو تین دن اطلاع دینے کے بعد اسے مارے۔
حدیث نمبر: 5637
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ صَيْفِيٍّ مَوْلَى ابْنِ أَفْلَحَ، عَنْ أَبِي السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي بَيْتِهِ، قَالَ: فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي، فَجَلَسْتُ أَنْتَظِرُهُ حَتَّى قَضَى صَلاتَهُ، فَسَمِعْتُ تَحْرِيكًا تَحْتَ السَّرِيرِ فِي بَيْتِهِ، فَإِذَا حَيَّةٌ، فَقُمْتُ لأَقْتُلَهَا، فَأَشَارَ إِلَيَّ أَنِ اجْلِسْ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، أَشَارَ إِلَى بَيْتٍ فِي الدَّارِ، وَقَالَ: تَرَى هَذَا الْبَيْتَ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" إِنَّهُ كَانَ فِيهِ فَتًى مِنَّا حَدِيثَ عَهْدٍ بِعُرْسٍ، فَخَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْخَنْدَقِ، فَكَانَ ذَلِكَ الْفَتَى يَسْتَأْذِنُهُ بِأَنْصَافِ النَّهَارِ، وَيَرْجِعُ إِلَى أَهْلِهِ، قَالَ: فَاسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَقَالَ لَهُ: خُذْ سِلاحَكَ، فَإِنِّي أَخْشَى عَلَيْكَ، فَأَخَذَ سِلاحَهُ ثُمَّ ذَهَبَ، فَإِذَا هُوَ بِامْرَأَتِهِ بَيْنَ الْبَابَيْنِ، فَهَيَّأَ لَهَا الرُّمْحَ لِيَطْعَنَهَا بِهِ، وَأَصَابَتْهُ الْغَيْرَةُ، فَقَالَتِ: اكْفُفْ عَنْكَ رُمْحَكَ حَتَّى تَرَى مَا فِي بَيْتِكَ، فَدَخَلَ، فَإِذَا حَيَّةٌ عَظِيمَةٌ مُنْطَوِيَةٌ عَلَى فِرَاشِهِ، فَأَهْوَى إِلَيْهَا، فَانْتَظَمَهَا فِيهِ، ثُمَّ خَرَجَ بِهِ، فَرَكَزَهُ فِي الدَّارِ، فَاضْطَرَبَتِ الْحَيَّةُ فِي رَأْسِ الرُّمْحِ، وَخَرَّ الْفَتَى صَرِيعًا، فَمَا يُدْرَى أَيُّهُمَا كَانَ أَسْرَعَ مَوْتًا، الْفَتَى أَمِ الْحَيَّةُ، قَالَ: فَجِئْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، وَقُلْنَا: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُحْيِيَهُ، فَقَالَ: اسْتَغْفِرُوا لِصَاحِبِكُمْ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ بِالْمَدِينَةِ جِنًّا قَدْ أَسْلَمُوا، فَإِنْ رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا، فَآذِنُوهُ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ، فَاقْتُلُوهُ، فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ" .
ابوسائب بیان کرتے ہیں: میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے گھر میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے انہیں نماز ادا کرتے ہوئے پایا۔ میں ان کی نماز ختم ہونے کے انتظار میں بیٹھ گیا۔ میں نے ان کے گھر میں پلنگ کے نیچے کسی چیز کی حرکت کرنے کی آواز سنی تو وہ ایک سانپ تھا۔ میں اسے مارنے کے لئے اٹھنے لگا تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھے اشارہ کیا کہ میں بیٹھ جاؤں جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو انہوں نے گھر میں موجود کمرے کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا تم اس کمرے کو دیکھ رہے ہو۔ میں نے جواب دیا: جی ہاں! انہوں نے فرمایا: اس میں ہم میں سے ایک نوجوان رہتا تھا جس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ وہ نوجوان دوپہر کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے کر اپنے گھر واپس چلا جاتا تھا۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا تم اپنا ہتھیار ساتھ لے کر جاؤ کیونکہ مجھے تمہارے حوالے سے اندیشہ ہے۔ اس نے اپنا ہتھیا ر لیا اور چلا گیا۔ جب وہ گھر پہنچا تو اس کی بیوی دروازے سے باہر کھڑی ہوئی تھی۔ اس نے وہ نیزہ اسے مارنے کا ارادہ کیا۔ اسے غصہ آ گیا تھا۔ اس خاتون نے کہا: اپنے نیزے کو روک لو پہلے یہ دیکھ لو گھر کے اندر کیا ہے جب وہ گھر کے اندر داخل ہوا تو وہاں ایک بڑا سا سانپ موجود تھا جو فرش پر لیٹا ہوا تھا۔ وہ شخص اس سانپ کی طرف بڑھا۔ اس نے اس نیزے میں اس کو پرو دیا پھر وہ اسے لے کر باہر آیا اور اس نے صحن میں اسے گاڑ دیا۔ نیزے کے سرے پر موجود سانپ میں حرکت ہوئی۔ (اس نے نوجوان کو ڈس لیا تو نوجوان تیزی سے نیچے گرا یہ اندازہ نہیں ہو سکا کہ دونوں میں سے کون پہلے مرا ہے وہ نوجوان یا وہ سانپ، راوی بیان کرتے ہیں: پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم نے آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا۔ ہم نے عرض کی: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ اس نوجوان کو زندہ کر دے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ اپنے ساتھی کے لئے دعائے مغفرت کرو پھر آپ نے ارشاد فرمایا: مدینہ منورہ میں کچھ جنات رہتے ہیں جو مسلمان ہو چکے ہیں جب تم ان میں سے کسی کو (سانپ کی شکل میں) دیکھو تو اسے تین دن تک آگاہ کرو اگر اس کے بعد وہ تمہارے سامنے آئے تو اسے مار دو کیونکہ وہ شیطان ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5637]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5608»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م (7/ 40 - 41).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
عبد الله بن السائب الأنصاري ← أبو سعيد الخدري