صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
86. باب قتل الحيوان - ذكر الإباحة للمرء قتل ذي الطفيتين والأبتر من الحيات-
جانور کے قتل (مارنے) کا بیان - بیان کیا گیا کہ انسان کے لیے جائز ہے کہ دو ٹانگ والے اور کٹے ہوئے سانپ کو قتل کرے
حدیث نمبر: 5645
أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالأَبْتَرَ، فَإِنَّهُمَا يَطْمِسَانِ الْبَصَرَ، وَيُسْقِطَانِ الْحَبَلَ" ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْتُلُ الْحَيَّاتِ كُلَّهَا، حَتَّى أَبْصَرَهُ أَبُو لُبَابَةَ يُطَارِدُ حَيَّةً، فَقَالَ: إِنَّهُ نُهِيَ عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ.
سالم اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سانپوں کو اور دو دھاری سانپ کو دم کئے ہوئے سانپ کو مار دو کیونکہ یہ دونوں بینائی کو رخصت کر دیتے ہیں اور حمل کو ضائع کر دیتے ہیں۔“
راوی کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہر طرح کے سانپ مار دیتے تھے یہاں تک کہ ایک دن سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے انہیں ایک سانپ کے پیچھے جاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں رہنے والے سانپوں (کو مارنے سے) منع کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5645]
راوی کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہر طرح کے سانپ مار دیتے تھے یہاں تک کہ ایک دن سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے انہیں ایک سانپ کے پیچھے جاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں رہنے والے سانپوں (کو مارنے سے) منع کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5645]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5616»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - تقدم: م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
الرواة الحديث:
سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي