🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
103. باب ما جاء في التباغض والتحاسد والتدابر والتشاجر والتهاجر بين المسلمين - ذكر الزجر عن الهجران بين المسلمين أكثر من ثلاث ليال-
مسلمانوں کے درمیان بغض، حسد، منہ موڑنے، جھگڑنے اور قطع تعلقی کے بارے میں وارد احادیث کا بیان - ذکر منع کہ مسلمانوں کے درمیان تین راتوں سے زیادہ ہجرت نہ کی جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5662
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ وَهُوَ ابْنُ أَخِي عَائِشَةَ لأُمِّهَا، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، قَالَ فِي بَيْعٍ أَوْ عَطَاءٍ أَعْطَتْهُ: وَاللَّهِ لَتَنْتَهِيَنَّ عَائِشَةُ، أَوْ لأَحْجُرَنَّ عَلَيْهَا، قَالَتْ عَائِشَةُ حِينَ بَلَغَهَا ذَلِكَ: إِنَّ لِلَّهِ عَلَيَّ نَذْرًا أَنْ لا أُكَلِّمَ ابْنَ الزُّبَيْرِ أَبَدًا، فَاسْتَشْفَعَ ابْنَ الزُّبَيْرِ حِينَ طَالَتْ هِجْرَتُهَا لَهُ إِلَيْهَا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: وَاللَّهِ لا أُشَفِّعُ فِيهِ أَحَدًا، وَلا أَحْنَثُ فِي نَذْرِي الَّذِي نَذَرْتُ أَبَدًا، فَلَمَّا طَالَ ذَلِكَ عَلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ، كَلَّمَ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ، وَهُمَا مِنْ بَنِي زُهْرَةَ، فَقَالَ لَهُمَا: نَشَدْتُكُمَا بِاللَّهِ إِلا أَدْخَلْتُمَانِي عَلَى عَائِشَةَ، فَإِنَّهُ لا يَحِلُّ لَهَا أَنْ تَنْذِرَ فِي قَطِيعَتِي، فَأَقْبَلَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الأَسْوَدِ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَقَدِ اشْتَمَلا عَلَيْهِ بِبُرْدَيْهِمَا، حَتَّى اسْتَأْذَنَا عَلَى عَائِشَةَ، فَقَالا: السَّلامُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِيهٍ نَدْخُلُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: ادْخُلا، فَقَالا: كُلُّنَا؟ قَالَتْ: نَعَمْ، ادْخُلُوا كُلُّكُمْ، وَلا تَعْلَمُ عَائِشَةُ أَنَّ مَعَهُمَا ابْنَ الزُّبَيْرِ، فَلَمَّا دَخَلُوا، اقْتَحَمَ ابْنُ الزُّبَيْرِ الْحِجَابَ، وَدَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ، فَاعْتَنَقَهَا، وَطَفِقَ يُنَاشِدُهَا وَيَبْكِي، وَطَفِقَ الْمِسْوَرُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ يُنَاشِدَانِ عَائِشَةَ، وَيَقُولانِ لَهَا:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَمَّا عَلِمْتِيهِ، وَإِنَّهُ لا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلاثٍ ، فَلَمَّا أَكْثَرَا عَلَى عَائِشَةَ التَّذْكِرَةَ، طَفِقَتْ تُذَكِّرُهُمْ وَتَبْكِي، وَتَقُولُ: إِنِّي نَذَرْتُ وَالنَّذْرُ شَدِيدٌ، فَلَمْ يَزَالا بِهَا حَتَّى كَلَّمَتِ ابْنَ الزُّبَيْرِ، ثُمَّ أَعْتَقَتْ عَنْ نَذْرِهَا ذَلِكَ أَرْبَعِينَ رَقَبَةً، ثُمَّ كَانَتْ بَعْدَمَا أَعْتَقَتْ أَرْبَعِينَ رَقَبَةً تَبْكِي حَتَّى تَبُلَّ دُمُوعُهَا خِمَارَهَا"، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: عَائِشَةُ هِيَ خَالَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، لأَنَّ أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ أُخْتُ عَائِشَةَ.
عوف بن حارث جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے قریبی عزیز ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات بتائی کہ ایک مرتبہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے کچھ فروخت کرنے پر یا عطیے کے طور پر کوئی چیز دینے پر سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے یہ کہا کہ اللہ کی قسم! یا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ایسا کرنے سے باز آ جائیں گی یا میں انہیں تصرف کرنے سے روک دوں گا۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تک جب یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا کہ اللہ کے نام پر مجھ پر یہ نذر لازم ہے، اب میں عبداللہ بن زبیر کے ساتھ کبھی کلام نہیں کروں گی۔ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ان سے لاتعلقی زیادہ ہو گئی تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ان کی خدمت میں سفارش پیش کی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اللہ کی قسم! میں اس کے بارے میں کسی کی سفارش کو قبول نہیں کروں گی اور میں نے جو نذر مانی ہے کبھی اس کی خلاف ورزی نہیں کروں گی۔ جب زیادہ عرصہ گزر گیا تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اس بارے میں سیدنا مسور بن مخرمہ اور سیدنا عبدالرحمن بن اسود رضی اللہ عنہما سے بات کی۔ یہ دونوں صاحبان بنو زہرہ سے تعلق رکھتے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ان دونوں سے کہا کہ میں آپ دونوں کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ کہتا ہوں کہ آپ مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں لے جائیں کیونکہ ان کے لیے ایسی نذر ماننا جائز نہیں ہے جس میں وہ مجھ سے تعلق توڑ لیں۔ تو مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمن بن اسود رضی اللہ عنہما، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو ساتھ لے کر گئے۔ ان دونوں نے اپنی چادریں ان پر ڈال دیں اور ان دونوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اندر آنے کی اجازت مانگی۔ ان دونوں نے کہا کہ «السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم » ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام نازل ہو“ اے ام المؤمنین! کیا ہم اندر آ جائیں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ تم دونوں آ جاؤ۔ ان دونوں نے عرض کی کہ کیا ہم سب آ جائیں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہاں تم سب آ جاؤ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس کا پتا نہیں تھا کہ ان دونوں کے ساتھ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بھی ہیں۔ جب یہ حضرات اندر داخل ہوئے تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے پردہ ہٹایا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے ان کو گلے لگا لیا اور وہ روتے ہوئے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو واسطے دینے لگے۔ سیدنا مسور بن مخرمہ اور سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہما نے بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو واسطہ دیا اور ان دونوں نے ان سے کہا کہ آپ نے جو طرز عمل اختیار کیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے کہ ”کسی بھی مسلمان کے لیے اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ لاتعلق رہنا جائز نہیں ہے۔“ جب ان دونوں صاحبان نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو زیادہ وعظ و نصیحت کی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں یاد دلانا شروع کیا اور رونا شروع کر دیا اور یہ کہا کہ میں نے نذر مانی ہے اور نذر کا معاملہ شدید ہوتا ہے۔ لیکن وہ دونوں صاحبان ان کے ساتھ مسلسل بات کرتے رہے یہاں تک کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بات چیت کرنا شروع کر دی۔ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی نذر کے عوض میں چالیس غلام آزاد کیے۔ چالیس غلام آزاد کرنے کے بعد بھی وہ روتی رہتی تھیں یہاں تک کہ ان کی چادر ان کے آنسوؤں سے تر ہو جایا کرتی تھی۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی خالہ تھیں کیونکہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی والدہ سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بہن ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5662]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3505، 6073، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5662، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11456، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19224» «رقم طبعة با وزير 5633»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (6073 - 6075). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عوف بن الحارث الأزدي
Newعوف بن الحارث الأزدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عوف بن الحارث الأزدي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت فاضل
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن المتوكل القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن المتوكل القرشي ← عبد الرزاق بن همام الحميري
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن الحسن بن قتيبة اللخمي، أبو العباس
Newمحمد بن الحسن بن قتيبة اللخمي ← محمد بن المتوكل القرشي
ثقة
Sahih Ibn Hibban Hadith 5662 in Urdu