🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
129. باب الاستماع المكروه وسوء الظن والغضب والفحش - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من ذم النفس عن الخروج إلى ما لا يرضي الله جل وعلا بالغضب-
ناپسندیدہ بات سننے، بدگمانی، غصہ اور فحش گوئی کا بیان - ذکر خبر کہ انسان پر لازم ہے کہ وہ اپنی نفس کو اس بات سے روکے کہ غصے میں وہ کام کرے جو اللہ جل وعلا کو ناپسند ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5690
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ جَارِيَةَ بْنِ قُدَامَةَ ، أَنَّ رَجُلاً قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ لِي قَوْلاً وَأَقْلِلْ، قال: " لا تَغْضَبْ"، فَأَعَادَ عَلَيْهِ، قَالَ:" لا تَغْضَبْ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا تَغْضَبْ"، أَرَادَ بِهِ أَنْ لا تَعْمَلَ عَمَلاً بَعْدَ الْغَضَبِ مِمَّا نَهَيْتُكَ عَنْهُ، لا أَنَّهُ نَهَاهُ عَنِ الْغَضَبِ، إِذِ الْغَضَبُ شَيْءٌ جِبِلَّةٌ فِي الإِنْسَانِ، وَمُحَالٌ أَنْ يُنْهَى الْمَرْءُ عَنْ جِبِلَّتِهِ الَّتِي خُلِقَ عَلَيْهَا، بَلْ وَقَعَ النَّهْيُ فِي هَذَا الْخَبَرِ عَمَّا يَتَوَلَّدُ مِنَ الْغَضَبِ مِمَّا ذَكَرْنَاهُ.
سیدنا جاریہ بن قدامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک صاحب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: آپ مجھے کوئی بات ارشاد فرمائیں اور مختصر بات عنایت کیجیے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم غصہ نہ کرنا۔ ان صاحب نے دوبارہ آپ سے یہی سوال کیا تو آپ نے یہی فرمایا: تم غصہ نہ کرنا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: تم غصہ نہ کرنا اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ ہے کہ غصے میں آنے کے بعد تم کوئی ایسا کام نہ کرنا جس سے میں نے منع کیا ہے۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غصہ کرنے سے منع کیا ہے کیونکہ غصہ انسان کی فطرت میں شامل ہے اور یہ بات ناممکن ہے کہ آدمی کو اس کی فطرت میں شامل موجود کسی چیز سے منع کیا جائے، بلکہ یہ ممانعت اس چیز کے بارے میں ہے جو غصے کے نتیجے میں سامنے آتی ہے جس کا ہم نے ذکر کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5690]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5689، 5690، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6641، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20337، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16210» «رقم طبعة با وزير 5661»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - وهو مكرر الذي قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جارية بن قدامة السعدي، أبو يزيد، أبو قدامة، أبو أيوبمختلف في صحبته
👤←👥الأحنف بن قيس التميمي، أبو بحر
Newالأحنف بن قيس التميمي ← جارية بن قدامة السعدي
ثقة
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← الأحنف بن قيس التميمي
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة
Newزهير بن حرب الحرشي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة ثبت
👤←👥أبو يعلى الموصلي، أبو يعلى
Newأبو يعلى الموصلي ← زهير بن حرب الحرشي
ثقة مأمون
Sahih Ibn Hibban Hadith 5690 in Urdu