علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
245. باب الاستئذان - ذكر البيان بأن بعض السنن قد تخفى على العالم وقد يحفظها من هو دونه في العلم والدين-
اجازت لینے (استیذان) کا بیان - ذکر بیان کہ بعض سنن عالم سے چھپی رہتی ہیں اور اس سے کم علم و دین والا انہیں محفوظ رکھتا ہے
حدیث نمبر: 5807
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى " اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ ثَلاثًا، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ، وَكَأَنَّهُ كَانَ مَشْغُولا، فَرَجَعَ أَبُو مُوسَى، فَفَرَغَ عُمَرُ، فَقَالَ: أَلَمْ أَسْمَعْ صَوْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ؟ ائْذَنُوا لَهُ، قِيلَ: إِنَّهُ قَدْ رَجَعَ، فَدَعَا بِهِ، فَقَالَ: كُنَّا نُؤْمَرُ بِذَلِكَ، فَقَالَ: لَتَأْتِيَنِّي عَلَى ذَلِكَ بِالْبَيِّنَةِ، فَانْطَلَقَ إِلَى مَجْلِسِ الأَنْصَارِ، فَسَأَلَهُمْ، فَقَالُوا: لا يَشْهَدُ لَكَ عَلَى ذَلِكَ إِلا أَصْغَرُنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، فَانْطَلَقَ بِأَبِي سَعِيدٍ، فَشَهِدَ لَهُ، فَقَالَ خَفِيَ عَلَيَّ هَذَا مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَلْهَانِي الصَّفْقُ بِالأَسْوَاقِ، وَلَكِنْ سَلِّمْ مَا شِئْتَ" .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں اندر آنے کے لیے تین مرتبہ اجازت مانگی انہیں اجازت نہیں ملی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ شاید اس وقت مصروف تھے تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ واپس چلے گئے جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فارغ ہوئے، تو انہوں نے دریافت کیا: کیا میں نے عبداللہ بن قیس کی آواز نہیں سنی تھی تم لوگ اسے اندر آنے کے لیے کہو۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا گیا، وہ تو واپس چلے گئے ہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں بلوایا (اور دریافت کیا) تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بتایا ہمیں اس بات کا حکم دیا گیا ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ اس پر کوئی ثبوت لے کر آئیں تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ انصار کی محفل میں تشریف لے گئے ان سے اس بارے میں دریافت کیا، تو ان لوگوں نے کہا: آپ کے حق میں اس بارے میں گواہی وہ شخص دے گا جو ہم میں سب سے کم سن ہے اور وہ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ہے تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر گئے انہوں نے سیدنا عمر بھی اللہ کے سامنے اس بات کی گواہی دی (کہ ایسا ہی) تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم مجھ سے مخفی رہا بازار میں خرید و فروخت نے مجھے اس سے غافل کر دیا تاہم تم جو چاہو تسلیم کرو (یا تم جیسے چاہو سلام کرو)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5807]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2062، 6245، 7353، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2153، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5806، 5807، 5810، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5180، 5181، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2690، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2671، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3706، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13692، 17742، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11186» «رقم طبعة با وزير 5777»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح الأدب» (827): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 5807 in Urdu
عبيد بن عمير الجندعي ← عبد الله بن قيس الأشعري