یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
13. ذكر خبر ثان يصرح بمعنى ما ذكرناه-
- ذکر دوسری خبر جو ہمارے بیان کردہ معنی کو واضح کرتی ہے
حدیث نمبر: 5910
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بَعْدَ الصَّلاةِ، ثُمَّ قَالَ: " مَنْ صَلَّى صَلاتَنَا، وَنَسَكَ نُسُكَنَا، فَقَدْ أَصَابَ النُّسُكَ، وَمَنْ نَسَكَ قَبْلَ الصَّلاةِ فَتِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ"، قَالَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ نَسَكْتُ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى الصَّلاةِ، وَعَرَفْتُ أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ، فَتَعَجَّلْتُ فَأَكَلْتُ وَأَطْعَمْتُ أَهْلِي وَجِيرَانِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ"، قَالَ: فَإِنَّ عِنْدِي عَنَاقًا جَذَعَةً خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ، فَهَلْ تُجْزِئُ عَنِّي؟ قَالَ:" نَعَمْ، تُجْزِئُ عَنْكَ وَلَنْ تُجْزِئَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ" .
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن نماز کے بعد ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: جس شخص نے ہمارے ساتھ نماز ادا کی اور ہمارے طریقے کے ذریعے قربانی کرنا چاہتا ہے وہ قربانی کر لے گا اور جس شخص نے نماز سے پہلے جانور ذبح کر لیا تھا تو وہ صرف گوشت ہے۔ سیدنا ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! میں نے تو نماز کیلئے نکلنے سے پہلے ہی جانور قربان کر لیا تھا میرا یہ خیال تھا کہ آج کھانے پینے کا دن ہے اس لیے میں نے جلدی کی اور اپنے اہل خانہ اور پڑوسیوں کے لیے کھانا تیار کروا لیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ صرف گوشت ہے انہوں نے عرض کی: میرے پاس ایک چھ ماہ کا بکری کا بچہ ہے جو گوشت کے اعتبار سے ایک سال کے جانور سے بہتر ہے تو کیا یہ میری طرف سے جائز ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی ہاں یہ تمہاری طرف سے جائز ہو جائے گا، لیکن تمہارے بعد کسی کی طرف سے جائز نہیں ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأضحية/حدیث: 5910]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 951، 955، 965، 968، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1961، وابن الجارود فى "المنتقى"، 976، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1427، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5906، 5907، 5908، 5910، 5911، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1562، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2800، 2801، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1508، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18773» «رقم طبعة با وزير 5880»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر (5876). تنبيه!! رقم (5876) = (5906) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 5910 in Urdu
عامر الشعبي ← البراء بن عازب الأنصاري