صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
9. باب ما جاء في الفتن - ذكر الزجر عن أن يناول المرء أخاه السيف وهو مسلول-
فتنوں کے بارے میں وارد احادیث کا بیان - ذکر منع کہ انسان اپنے بھائی کو ننگی تلوار دے
حدیث نمبر: 5943
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِقَوْمٍ يَتَعَاطَوْنَ سَيْفًا بَيْنَهُمْ مَسْلُولا، فَقَالَ:" أَلَمْ أَزْجُرْكُمْ عَنْ هَذَا لِيُغْمِدْهُ، ثُمَّ يُنَاوِلْهُ أَخَاهُ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جنہوں نے ایک دوسرے کے مقابلے میں تلواریں نکالی ہوئی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں نے تم لوگوں کو اس چیز سے منع نہیں کیا؟ انہیں میان میں ڈال کر اپنے بھائی سے ملو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5943]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5913»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «المشكاة» (3527)، «صحيح أبي داود» (2331).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري