🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. باب ما جاء في الفتن - ذكر البيان بأن الدعاة إلى الفتن عند وقوعها إنما هم الدعاة إلى النار نعوذ بالله منها-
فتنوں کے بارے میں وارد احادیث کا بیان - ذکر بیان کہ فتنوں کے وقوع پر اس کی طرف بلانے والے جہنم کی طرف بلانے والے ہیں، نعوذ باللہ اس سے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5963
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلالٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ اللَّيْثِيُّ ، قَالَ: أَتَيْنَا الْيَشْكُرِيَّ فِي رَهْطٍ مِنْ بَنِي لَيْثٍ، فَقَالَ: مِمَّنِ الْقَوْمُ؟ فَقُلْنَا: بَنُو لَيْثٍ، فَسَأَلْنَاهُ وَسَأَلَنَا، وَقَالُوا: إِنَّا أَتَيْنَاكَ نَسْأَلُكُ عَنْ حَدِيثِ حُذَيْفَةَ، فَقَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ أَبِي مُوسَى قَافِلِينَ مِنْ بَعْضِ مَغَازِيهِ، قَالَ: وَغَلَتِ الدَّوَابُّ بِالْكُوفَةِ، قَالَ: فَاسْتَأْذَنْتُ أَنَا وَصَاحِبِي أَبَا مُوسَى، فَأَذِنَ لَنَا، فَقَدِمْنَا الْكُوفَةَ بَاكِرًا مِنَ النَّهَارِ، فَقُلْتُ لِصَاحِبِي: إِنِّي دَاخِلٌ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا قَامَتِ السُّوقُ خَرَجْتُ إِلَيْكَ، فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا أَنَا بِحَلْقَةٍ كَأَنَّمَا قُطِعَتْ رُءُوسُهُمْ، يَسْتَمِعُونَ إِلَى حَدِيثِ رَجُلٍ، قَالَ: فَجِئْتُ فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَامَ إِلَى جَنْبِي، فَقُلْتُ لِلرَّجُلِ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالَ: أَبَصْرِيُّ أَنْتَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: قَدْ عَرَفْتُ أَنَّكَ لَوْ كُنْتَ كُوفِيًّا لَمْ تَسْأَلْ عَنْ هَذَا، هَذَا حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ ، فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَيْرِ، وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ، وَعَرَفْتُ أَنَّ الْخَيْرَ لَمْ يَسْبِقْنِي فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ؟ فَقَالَ:" يَا حُذَيْفَةُ، تَعَلَّمْ كِتَابَ اللَّهِ وَاتَّبِعْ مَا فِيهِ" يَقُولُهَا لِي ثَلاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ؟ قَالَ:" فِتْنَةٌ وَشَرٌّ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ بَعْدَ هَذَا الشَّرِّ خَيْرٌ؟ قَالَ:" هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ مَا هِيَ؟ قَالَ:" لا تَرْجِعُ قُلُوبُ أَقْوَامٍ عَلَى الَّذِي كَانَتْ عَلَيْهِ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ؟ قَالَ: يَا حُذَيْفَةُ،" تَعَلَّمْ كِتَابَ اللَّهِ، وَاتَّبِعْ مَا فِيهِ" ثَلاثَ مَرَّاتٍ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ؟ قَالَ:" فِتْنَةٌ عَمْيَاءُ صَمَّاءُ عَلَيْهَا دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ النَّارِ، فَإِنْ مُتَّ يَا حُذَيْفَةُ وَأَنْتَ عَاضٌّ عَلَى جَذْرِ خَشَبَةٍ يَابِسَةٍ خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَتْبَعَ أَحَدًا مِنْهُمْ" ، الْيَشْكُرِيُّ: اسْمُهُ سُلَيْمَانُ.
نصر بن عاصم لیثی بیان کرتے ہیں: ہم لوگ بنو لیث کے کچھ افراد یشکری کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے دریافت کیا: آپ کا تعلق کون سے قبیلے سے ہے؟ ہم نے جواب دیا: بنو لیث سے، ہم نے ان سے دریافت کیا اور انہوں نے ہم سے سوالات کیے۔ لوگوں نے بتایا: ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں تاکہ ہم آپ سے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول حدیث کے بارے میں دریافت کریں، تو انہوں نے بتایا: ہم لوگ کسی جنگ سے واپس آ رہے تھے، ہم سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، انہوں نے بتایا کہ کوفہ میں جانور مہنگے ہو گئے۔ پھر میں نے اور میرے ساتھی نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے اجازت مانگی، انہوں نے ہمیں اجازت دی، تو ہم دن کے ابتدائی حصے میں کوفہ آ گئے۔ میں نے اپنے ساتھی سے کہا: میں مسجد میں جاتا ہوں، جب بازار شروع ہونے کا وقت ہو گا، تو میں تمہارے پاس آ جاؤں گا۔ میں مسجد میں داخل ہوا، تو وہاں ایک حلقہ موجود تھا، ان لوگوں کے سر بالکل ساکت تھے، وہ لوگ ایک شخص کی بات سن رہے تھے۔ راوی کہتا ہے: میں آیا اور ان کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا، پھر ایک اور شخص آیا اور میرے پہلو میں کھڑا ہو گیا، میں نے اس شخص سے دریافت کیا: یہ کون صاحب ہیں؟ اس نے دریافت کیا: کیا تم بصرہ کے رہنے والے ہو؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں! اس نے کہا: مجھے اندازہ ہو گیا تھا کیونکہ اگر تم کوفہ کے رہنے والے ہوتے، تو تم ان صاحب کے بارے میں سوال نہ کرتے، یہ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما ہیں (جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں)۔ میں ان کے اور قریب ہو گیا، تو میں نے انہیں یہ بیان کرتے ہوئے سنا: لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھلائی کے بارے میں دریافت کرتے تھے اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خرابیوں کے بارے میں دریافت کیا کرتا تھا، مجھے اس بات کا پتا تھا کہ بھلائی مجھ سے آگے نہیں نکلے گی۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اس بھلائی کے بعد کوئی برائی بھی آئے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے حذیفہ! تم کتاب اللہ کا علم حاصل کرو اور اس میں موجود احکام کی پیروی کرو۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس بھلائی کے بعد کوئی برائی بھی آئے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آزمائش اور برائی ہو گی۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اس برائی کے بعد کوئی بھلائی بھی آئے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ» (دھوئیں پر صلح)۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! «هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ» سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگوں کے دل دوبارہ اس کیفیت پر واپس نہیں جائیں گے جس پر وہ پہلے تھے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس بھلائی کے بعد کوئی برائی بھی آئے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے حذیفہ! تم اللہ کی کتاب کا علم حاصل کرو، اس میں موجود احکام کی پیروی کرو۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اس بھلائی کے بعد کوئی برائی بھی آئے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایسی آزمائش ہو گی جو اندھا اور گونگا کر دے گی، اس فتنے پر وہ لوگ موجود ہوں گے جو جہنم کی طرف بلائیں گے، اے حذیفہ! اگر تم ایسی حالت میں مرتے ہو کہ تم نے کسی خشک لکڑی کے تنے کو دانتوں میں پکڑا ہوا ہے، تو یہ تمہارے لیے اس سے زیادہ بہتر ہو گا کہ تم ان میں سے کسی ایک شخص کی پیروی کرو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یشکری نامی راوی کا نام سلیمان ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5963]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3606، 3607، 7084، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1847، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 117، 5963، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 385، 416، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4244، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3979، 3981، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23754، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 38268» «رقم طبعة با وزير 5932»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «الصحيحة» (1391). * [الْيَشْكُرِيُّ اسْمُهُ سُلَيْمَانُ] قال الشيخ: كذا! والظاهر أنه خطأ من الناسخ، والصواب: سبيع.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥حذيفة بن اليمان العبسي، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥سبيع بن خالد اليشكري
Newسبيع بن خالد اليشكري ← حذيفة بن اليمان العبسي
مقبول
👤←👥نصر بن عاصم الليثي
Newنصر بن عاصم الليثي ← سبيع بن خالد اليشكري
ثقة رمي برأي الخوارج وصح رجوعه عنه
👤←👥حميد بن هلال العدوي، أبو نصر
Newحميد بن هلال العدوي ← نصر بن عاصم الليثي
ثقة
👤←👥سليمان بن المغيرة القيسي، أبو سعيد
Newسليمان بن المغيرة القيسي ← حميد بن هلال العدوي
ثقة ثقة
👤←👥شيبان بن أبي شيبة الحبطي، أبو محمد
Newشيبان بن أبي شيبة الحبطي ← سليمان بن المغيرة القيسي
صدوق حسن الحديث
👤←👥أبو يعلى الموصلي، أبو يعلى
Newأبو يعلى الموصلي ← شيبان بن أبي شيبة الحبطي
ثقة مأمون
Sahih Ibn Hibban Hadith 5963 in Urdu