صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
31. باب ما جاء في الفتن - ذكر البيان بأن الصلاة والصيام والصدقة تكفر آثام الفتن عمن وصفنا نعته فيها-
فتنوں کے بارے میں وارد احادیث کا بیان - ذکر بیان کہ نماز، روزہ اور صدقہ اس شخص کے فتنوں کے گناہوں کو مٹاتے ہیں جس کی ہم نے اس میں صفت بیان کی
حدیث نمبر: 5966
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ الأَعْمَشِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَقِيقٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عُمَرَ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ يَحْفَظُ حَدِيثَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتْنَةِ؟ قَالَ: قُلْتُ: أَنَا، قَالَ: إِنَّكَ لَجَدِيرٌ أَوْ لَجَرِئٌ، فَكَيْفَ قَالَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي نَفْسِهِ وَأَهْلِهِ، وَمَالِهِ، وَوَلَدِهِ، وَجَارِهِ، يُكَفِّرُهَا الصِّيَامُ، وَالصَّدَقَةُ، وَالصَّلاةُ، وَالأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ" ، فَقَالَ عُمَرُ: لَيْسَ هَذَا أُرِيدُ، إِنَّمَا أُرِيدُ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ، فَقُلْتُ: وَمَا لَكَ وَلَهَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ إِنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا، قَالَ: فَيُكْسَرُ الْبَابُ أَمْ يُفْتَحُ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلْ يُكْسَرُ، قَالَ: ذَلِكَ أَحْرَى أَنْ لا يُغْلَقَ أَبَدًا، قَالَ: قُلْنَا لِحُذَيْفَةَ: هَلْ كَانَ يَعْلَمُ مَنِ الْبَابُ؟ قَالَ: نَعَمْ، كَمَا يَعْلَمُ أَنَّ دُونَ غَدٍ اللَّيْلَةَ، إِنَّ حُذَيْفَةَ حَدَّثَنَا لَيْسَ بِالأَغَالِيطِ، قَالَ: فَهِبْنَا أَنْ نَسْأَلَ حُذَيْفَةَ مَنِ الْبَابُ، فَقُلْنَا لِمَسْرُوقٍ: سَلْهُ، فَسَأَلَهُ فَقَالَ: عُمَرُ.
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے دریافت کیا: ”آپ میں سے کس کو فتنے کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث یاد ہے؟“ میں نے جواب دیا: مجھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آپ اس لائق ہیں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) آپ نے جرأت کا مظاہرہ کیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ارشاد فرمایا ہے؟“ تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”آدمی کی آزمائش اس کی اپنی ذات کے بارے میں، اس کے اہل خانہ کے بارے میں، اس کے مال میں، اس کی اولاد میں اور اس کے پڑوسی کے بارے میں ہوتی ہے؛ روزہ رکھنا، صدقہ کرنا، نماز پڑھنا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا اس کا کفارہ بنتے ہیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں یہ مراد نہیں لے رہا، میری مراد وہ فتنہ ہے جو سمندر کی لہروں کی طرح ہوگا“۔ میں نے کہا: ”اے امیر المؤمنین! آپ کا اس کے ساتھ کیا واسطہ؟ آپ کے اور اس کے درمیان ایک بند دروازہ ہے“۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”کیا اس دروازے کو توڑا جائے گا یا کھول دیا جائے گا؟“ تو میں نے کہا: ”جی نہیں، اسے توڑا جائے گا اور پھر وہ اس لائق ہوگا کہ وہ دوبارہ کبھی بند نہ ہو“۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہم نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: ”کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ بات جانتے تھے کہ دروازے سے مراد کیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں، جس طرح وہ یہ بات جانتے تھے کہ کل سے پہلے رات آئے گی“۔ (راوی بیان کرتے ہیں) سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں کوئی ایسی حدیث بیان نہیں کی جس میں غلط بیانی ہو۔ راوی کہتے ہیں: ہمیں ان سے یہ پوچھنے کی جرأت نہیں ہوئی کہ دروازے سے مراد کیا ہے، تو ہم نے مسروق سے کہا کہ تم ان سے دریافت کرو، مسروق نے ان سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا: ”(دروازے سے مراد) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرهن/حدیث: 5966]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 525، 1435، 1895، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 144، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5966، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8540، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 324، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2258، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3955، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23752» «رقم طبعة با وزير 5935»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «تخريج فقه السيرة» (137): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 5966 in Urdu
شقيق بن سلمة الأسدي ← حذيفة بن اليمان العبسي