🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. ذكر الخبر الذي يعارض في الظاهر هذا الزجر المطلق-
- ذکر خبر جو ظاہری طور پر اس مطلق منع کے خلاف ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6083
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" رُمِيَ يَوْمَ الأَحْزَابِ سَعْدٌ فَقُطِعَ أَكْحَلُهُ، فَنَزَفَهُ فَانْتَفَخَتْ يَدُهُ، فَحَسَمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّارِ، فَنَزَفَهُ فَحَسَمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّارِ أُخْرَى" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: الزَّجْرُ عَنِ الْكَيِّ فِي خَبَرِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: إِنَّمَا هُوَ الابْتِدَاءُ بِهِ مِنْ غَيْرِ عِلَّةٍ تُوجِبُهُ، كَمَا كَانَتِ الْعَرَبُ تَفْعَلُهُ تُرِيدُ بِهِ الْوَسْمِ، وَخَبَرُ جَابِرٍ فِيهِ إِبَاحَةُ اسْتِعْمَالِهِ لِعِلَّةٍ تَحْدُثُ مِنْ غَيْرِ الاتِّكَالِ عَلَيْهِ فِي بُرْئِهَا ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ أَخْبَارَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَتَضَادُّ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احزاب کے موقع پر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو تیر لگا، ان کی ایک رگ کٹ گئی جس میں سے خون بہنے لگا اور ان کا بازو پھول گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آگ کے ذریعے داغ لگوائے، لیکن ان کا خون بہتا رہا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری مرتبہ انہیں آگ کے ذریعے داغ لگوائے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں داغ لگانے کی ممانعت ابتدائی زمانہ پر محمول ہو گی جو کسی ایسی علت کے بغیر ہے، جو اس کو واجب کرتی ہو، جس طرح عرب کیا کرتے تھے اور اس کے ذریعے مراد «الْوَسْمُ» (یعنی داغ لگوانا) ہے۔ جبکہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں اس طریقے کو اختیار کرنے کے مباح ہونے کا ذکر ملتا ہے، جو کسی ایسی علت کی وجہ سے ہے، جو بعد میں سامنے آئی تھی اور وہ یہ کہ آدمی کے تندرست ہونے میں صرف اس پر تکیہ نہ کیا جائے، یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہے، جو اس بات کا قائل ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے منقول روایات میں تضاد پایا جاتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطب/حدیث: 6083]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2208، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4784، 6083، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8381، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8626، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3866، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1582، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2551، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3494، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19607، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14566» «رقم طبعة با وزير 6051»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← محمد بن مسلم القرشي
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥هشام بن عبد الملك الباهلي، أبو الوليد
Newهشام بن عبد الملك الباهلي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة ثبت
👤←👥الفضل بن الحباب الجمحي، أبو خليفة
Newالفضل بن الحباب الجمحي ← هشام بن عبد الملك الباهلي
ثقة ثبت
Sahih Ibn Hibban Hadith 6083 in Urdu