صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
12. ذكر وصف الفأل الذي كان يعجب رسول الله صلى الله عليه وسلم-
- ذکر وصف اس خوش فہمی کی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند تھی
حدیث نمبر: 6126
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكُنَاتِهَا" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكُنَاتِهَا"، لَفْظَةُ أَمْرٍ مَقْرُونَةٌ بِتَرْكِ ضِدِّهِ، وَهُوَ أَنْ لا يُنَفِّرُوا الطُّيُورَ عَنْ مَكُنَاتِهَا، وَالْقَصْدُ مِنْ هَذَا الزَّجْرِ عَنْ شَيْءٍ ثَالِثٍ، وَهُوَ أَنَّ الْعَرَبَ كَانَتْ إِذَا أَرَادَتْ أَمْرًا جَاءَتْ إِلَى وَكْرِ الطَّيْرِ فَنَفَّرَتْهُ، فَإِنْ تَيَامَنَ مَضَتْ لِلأَمْرِ الَّذِي عَزَمَتْ عَلَيْهِ، وَإِنْ تَيَاسرَ أَغْضَتْ عَنْهُ، وَتَشَاءَمَتْ بِهِ، فَزَجَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اسْتِعْمَالِ هَذَا الْفِعْلِ بِقَوْلِهِ:" أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكُنَاتِهَا".
سیدہ اُمِ کرز رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: «أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا» ”پرندوں کو ان کے گھونسلوں میں رہنے دو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”پرندوں کو ان کے گھونسلوں میں رہنے دو“ یہ الفاظ اس بات کے متقاضی ہیں کہ اس کے متضاد کو ترک کر دیا جائے، وہ یہ کہ پرندوں کو ان کے گھونسلوں سے نہ اڑایا جائے اور اس ممانعت کے ذریعے مراد کسی تیسری چیز سے منع کرنا ہے اور وہ یہ کہ عربوں کا یہ معمول تھا، جب وہ کوئی کام کرنے کا ارادہ کرتے تھے تو کسی پرندے کے گھونسلے کے پاس آ کر اسے اڑا دیتے تھے، اگر وہ دائیں طرف اڑ کر جاتا تھا تو آدمی وہ کام کر لیتا تھا جس کو کرنے کا اس نے ارادہ کیا تھا اور اگر وہ بائیں طرف اڑ کر جاتا تھا تو آدمی وہ کام نہیں کرتا تھا اور اسے بدشگونی سمجھتا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو اس چیز کے اختیار کرنے سے منع کیا اور یہ الفاظ استعمال کیے: ”پرندوں کو ان کے گھونسلوں میں رہنے دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العدوى والطيرة والفأل/حدیث: 6126]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6126، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7686، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2835، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19397، 19398، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27783» «رقم طبعة با وزير 6093»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «الضعيفة» (5862).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 6126 in Urdu
سباع بن ثابت الزهري ← أم كرز الخزاعية