صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
3. باب بدء الخلق - ذكر الإخبار بأن الله جل وعلا كان ولا شيء غيره-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر کہ اللہ جل وعلا تھا اور اس کے علاوہ کچھ نہ تھا
حدیث نمبر: 6140
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِشْكَابٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مَعْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَاقَتِي مَعْقُولَةٌ بِالْبَابِ إِِذْ دَخَلَ عَلَيْهِ نَفَرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! جِئْنَاكَ لِنَتَفَقَّهَ فِي الدِّينِ، وَنَسْأَلَكَ عَنْ أَوَّلِ هَذَا الأَمْرِ، مَا كَانَ؟ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ اللَّهُ وَلَيْسَ شَيْءٌ غَيْرَهُ، وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ، ثُمَّ كَتَبَ فِي الذِّكْرِ كُلَّ شَيْءٍ، ثُمَّ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ" . قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا عِمْرَانُ، أَدْرِكْ نَاقَتَكَ، فَقَدِ انْفَلَتَتْ، فَإِِذَا السَّرَابُ يَنْقَطِعُ دُونَهَا، وَايْمُ اللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنَّى كُنْتُ تَرَكْتُهَا.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا میری اونٹنی (مسجد کے دروازے پر) بندھی ہوئی تھی اسی دوران بنو تمیم سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس لیے حاضر ہوئے ہیں تاکہ دین کی تعلیم حاصل کریں ہم اس معاملے کے آغاز کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ یہ کیسے ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پہلے صرف اللہ تعالیٰ تھا اس کے علاوہ کوئی چیز نہیں تھی عرش پانی پر تھا، پھر اس نے ذکر (یعنی قرآن مجید یا لوح محفوظ میں) ہر چیز تحریر کر دی پھر اس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: اسی دوران ایک شخص آیا اور بولا: اے عمران اپنی اونٹنی کو پکڑ لیں وہ رسی کھول کر چلی گئی ہے۔ سراب اس سے پہلے ہی منقطع ہو جاتا ہے۔ (سیدنا عمران رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) اللہ کی قسم! میری یہ خواہش ہے کہ میں نے اونٹنی کو چھوڑ دیا ہوتا (اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو سنتا رہتا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6140]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6107»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (3190)، ويأتي بأتم منه قريبا (6109). تنبيه!! رقم (6109) = (6142) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الصحيح
الرواة الحديث:
صفوان بن محرز المازني ← عمران بن حصين الأزدي