صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
19. باب بدء الخلق - ذكر البيان بأن الجن تقتل أولاد آدم إذا شاءت-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر بیان کہ جن اگر چاہیں تو ابن آدم کے بچوں کو قتل کر سکتے ہیں
حدیث نمبر: 6157
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهِبٍ ، عَنِ اللَّيْثِ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ صَيْفِيٍّ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الأَنْصَارِ أَخْبَرَ بِهِ، عَنْ أَبِي السَّائِبِ ، قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَهُ، سَمِعْتُ تَحْتَ سَرِيرِهِ تَحْرِيكَ شَيْءٍ، فَنَظَرْتُ، فَإِِذَا حَيَّةٌ، فَقُمْتُ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: مَا لَكَ؟، قُلْتُ: حَيَّةٌ هَا هُنَا، قَالَ: فَتُرِيدُ مَاذَا؟، قُلْتُ: أُرِيدُ قَتْلَهَا، قَالَ: فَأَشَارَ إِِلَى بَيْتٍ فِي دَارٍ، فَعَايَنْتُهُ، فَقَالَ: إِِنَّ ابْنَ عَمٍّ لِي كَانَ فِي هَذَا الْبَيْتِ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الأَحْزَابِ اسْتَأْذَنَ إِِلَى أَهْلِهِ، وَكَانَ حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ، فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَذْهَبَ بِسِلاحِهِ، فَأَتَى دَارَهُ، فَوَجَدَ امْرَأَتَهُ قَائِمَةً عَلَى بَابِ الْبَيْتِ، فَأَشَارَ إِِلَيْهَا بِالرُّمْحِ، فَقَالَتْ: لا تَعْجَلْ عَلَيَّ حَتَّى تَنْظُرَ مَا أَخْرَجَنِي، فَدَخَلَ الْبَيْتَ، فَإِِذَا حَيَّةٌ مُنْكَرَةٌ، فَطَعَنَهَا بِالرُّمْحِ، ثُمَّ خَرَجَ بِهَا فِي الرُّمْحِ تَرْتَكِضُ. فَقَالَ: لا أَدْرِي أَيَّهُمَا كَانَ أَسْرَعَ مَوْتًا: الرَّجُلُ أَمِ الْحَيَّةُ، فَأَتَى قَوْمُهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَرُدَّ صَاحِبَنَا، فَقَالَ:" اسْتَغْفِرُوا لِصَاحِبِكُمْ"، ثُمَّ قَالَ:" إِِنَّ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ بِالْمَدِينَةِ قَدْ أَسْلَمُوا، فَإِِذَا رَأَيْتُمْ أَحَدًا مِنْهُمْ، فَحَذِّرُوهُ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ إِِنْ بَدَا لَكُمْ أَنْ تَقْتُلُوهُ، فَاقْتُلُوهُ بَعْدَ الثَّلاثِ" .
ابوسائب بیان کرتے ہیں: میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، میں ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اسی دوران مجھے ان کے پلنگ کے نیچے کسی چیز کے حرکت کرنے کی آواز محسوس ہوئی، میں نے جائزہ لیا تو وہاں سانپ موجود تھا، تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ میں نے کہا: یہاں سانپ موجود ہے۔ انہوں نے دریافت کیا: تم کیا کرنا چاہتے ہو؟ میں نے جواب دیا: میں اسے مارنا چاہتا ہوں، تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے اس محلے میں موجود ایک گھر کی طرف اشارہ کیا جو مجھے نظر آ رہا تھا۔ انہوں نے فرمایا: میرا چچازاد اس گھر میں رہتا تھا، غزوۂ احزاب کے موقع پر اس نے اپنے گھر جانے کی اجازت مانگی، اس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہدایت کی کہ وہ اپنے ہتھیار ساتھ لے کر جائے۔ جب وہ اپنے محلہ میں آیا تو اس نے اپنی بیوی کو گھر کے دروازے پر کھڑا ہوا پایا، اس نے نیزے کے ذریعے اس عورت کی طرف اشارہ کیا، اس عورت نے کہا: آپ میرے بارے میں جلد بازی کا مظاہرہ نہ کیجیے، پہلے اس بات کا جائزہ لیں میں کیوں باہر آئی ہوں۔ وہ شخص گھر کے اندر گیا تو وہاں ایک عجیب و غریب سانپ موجود تھا، اس نے اپنے نیزے سے سانپ کو مارا اور پھر اسے اس نیزے میں پرو کر باہر لے آیا، وہ سانپ ہل جل رہا تھا۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے نہیں پتہ کہ ان دونوں میں سے کون پہلے مرا؟ وہ آدمی یا سانپ۔ اس کی قوم کے افراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ ہمارے ساتھی کو واپس کر دے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے ساتھی کے لیے دعائے مغفرت کرو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کچھ جنات مدینہ منورہ میں رہتے ہیں جو اسلام قبول کر چکے ہیں، جب تم ان میں سے کسی کو دیکھو تو تین مرتبہ ڈراؤ، پھر (اس کے بعد بھی اگر) وہ تمہارے سامنے آ جائے، تو تم اسے قتل کرو، تم تین مرتبہ (اسے ڈرانے کے بعد) پھر قتل کرنا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6157]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2236، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3581، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5637، 5641، 6157، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5256، 5257، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1484، 1484 م، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11247» «رقم طبعة با وزير 6124»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الضعيفة» تحت الحديث (3163).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 6157 in Urdu
عبد الله بن السائب الأنصاري ← أبو سعيد الخدري