صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
27. باب بدء الخلق - ذكر إخراج الله جل وعلا من ظهر آدم ذريته وإعلامه إياه أنه خالقها للجنة والنار-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے آدم کی پشت سے اس کی ذریت نکالی اور اسے بتایا کہ وہ اسے جنت اور جہنم کے لیے بنائے گا
حدیث نمبر: 6166
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالا: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، سُئِلَ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ: وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى سورة الأعراف آية 172، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ، ثُمَّ مَسَحَ عَلَى ظَهْرِهِ بِيَمِينِهِ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً، فَقَالَ: خَلَقْتُ هَؤُلاءِ لِلْجَنَّةِ، وَبِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَعْمَلُونَ، ثُمَّ مَسَحَ ظَهْرَهُ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً، فَقَالَ: خَلَقْتُ هَؤُلاءِ لِلنَّارِ، وَبِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ يَعْمَلُونَ"، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَفِيمَ الْعَمَلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنَّ اللَّهَ إِِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلْجَنَّةِ، اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَمُوتَ عَلَى عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيُدْخِلُهُ بِهِ الْجَنَّةَ، وَإِِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلنَّارِ، اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى يَمُوتَ عَلَى عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ أَهْلِ النَّارِ، فَيُدْخِلُهُ بِهِ النَّارَ" .
مسلم بن یسار جہنی بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں دریافت کیا گیا۔ ”اور جب تمہارے پروردگار نے اولاد آدم کو ان کی پشتوں سے ان کی ذریت کو نکالا اور ان لوگوں کو اپنی ذات کے بارے میں گواہ بنایا (اور دریافت کیا) کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔“
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا کیا پھر اس نے ان کی پشت پر اپنا دست قدرت پھیرا اور ان کی پشت میں سے ان کی ذریت کو نکال دیا اور فرمایا میں نے ان لوگوں کو جنت کیلئے اور اہل جنت کے سے عمل کرنے کیلئے پیدا کیا ہے پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی پشت پر ہاتھ پھیرا اور اس میں سے ان کی ذریت کو نکالا اور فرمایا میں نے ان لوگوں کو جہنم کے لیے اور اہل جہنم کے سے عمل کرنے کیلئے پیدا کیا ہے۔ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! پھر عمل کیوں کیا جائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے کسی بندے کو جنت کیلئے پیدا کیا ہو، تو اس سے اہل جنت کے سے عمل کرواتا ہے، یہاں تک کہ وہ شخص اہل جنت کے سے عمل کرتے ہوئے مرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کر دیتا ہے، جب اللہ تعالیٰ نے کسی بندے کو جہنم کے لیے پیدا کیا ہو، تو اس سے اہل جہنم کے سے عمل کرواتا ہے، یہاں تک کہ وہ بندہ اہل جہنم کے سے عمل کرتے ہوئے مر جاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس وجہ سے اسے جہنم میں داخل کر دیتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6166]
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا کیا پھر اس نے ان کی پشت پر اپنا دست قدرت پھیرا اور ان کی پشت میں سے ان کی ذریت کو نکال دیا اور فرمایا میں نے ان لوگوں کو جنت کیلئے اور اہل جنت کے سے عمل کرنے کیلئے پیدا کیا ہے پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی پشت پر ہاتھ پھیرا اور اس میں سے ان کی ذریت کو نکالا اور فرمایا میں نے ان لوگوں کو جہنم کے لیے اور اہل جہنم کے سے عمل کرنے کیلئے پیدا کیا ہے۔ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! پھر عمل کیوں کیا جائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے کسی بندے کو جنت کیلئے پیدا کیا ہو، تو اس سے اہل جنت کے سے عمل کرواتا ہے، یہاں تک کہ وہ شخص اہل جنت کے سے عمل کرتے ہوئے مرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کر دیتا ہے، جب اللہ تعالیٰ نے کسی بندے کو جہنم کے لیے پیدا کیا ہو، تو اس سے اہل جہنم کے سے عمل کرواتا ہے، یہاں تک کہ وہ بندہ اہل جہنم کے سے عمل کرتے ہوئے مر جاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس وجہ سے اسے جہنم میں داخل کر دیتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6166]
تخریج الحدیث: «0»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «الضعيفة» (3071).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
الرواة الحديث:
مسلم بن يسار الجهني ← عمر بن الخطاب العدوي