صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
43. باب بدء الخلق - ذكر كتبة الله جل وعلا أولاد آدم لداري الخلود واستعماله إياهم لهما في دار الدنيا-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے آدم کے بیٹوں کو دونوں ابدی گھروں کے لیے لکھا اور انہیں دنیا کی زندگی میں ان کے لیے استعمال کیا
حدیث نمبر: 6182
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ بِالْفُسْطَاطِ، حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَوْزَجَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ ، قَالَ: قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ : يَا أَبَا الأَسْوَدِ، أرَأَيْتَ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ وَيَكْدَحُونَ فِيهِ، أَشَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى، أَوْ فِيمَا يَسْتَقْبِلُونَ مِمَّا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاتُّخِذَتْ بِهِ الْحُجَّةُ عَلَيْهِمْ؟، فَقُلْتُ: بَلْ شَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى عَلَيْهِمْ، قَالَ: فَيَكُونُ ذَلِكَ ظُلْمًا؟، قَالَ: فَفَزِعْتُ مِنْ ذَلِكَ فَزَعًا شَدِيدًا، فَقُلْتُ: إِِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ إِِلا خَلْقُ اللَّهِ وَمِلْكُ يَدِهِ، مَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يَسْأَلُونَ، فَقَالَ عِمْرَانُ: سَدَّدَكَ اللَّهُ، أَوْ وَفَّقَكَ اللَّهُ، أَمَا وَاللَّهِ مَا سَأَلْتُكَ إِِلا لأَحْزِرَ عَقْلَكَ، إِِنَّ رَجُلا مِنْ مُزَيْنَةَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ وَيَكْدَحُونَ فِيهِ، أَشَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى عَلَيْهِمْ، أَوْ فِيمَا يَسْتَقْبِلُونَ مِمَّا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ، وَاتُّخِذَتْ عَلَيْهِمْ بِهِ الْحُجَّةُ؟ فَقَالَ: " بَلْ شَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى عَلَيْهِمْ"، قَالَ: فَلِمَ نَعْمَلُ إِِذًا؟، قَالَ:" مَنْ كَانَ اللَّهُ خَلَقَهُ لِوَاحِدَةٍ مِنَ الْمَنْزِلَتَيْنِ، فَهُوَ يُسْتَعْمَلُ لَهَا، وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ: وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا سورة الشمس آية 7 - 8" .
ابواسود دیلی بیان کرتے ہیں: سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: اے ابواسود تمہاری کیا رائے ہے آج لوگ جو عمل کر رہے ہیں اور اس بارے میں جو کوشش کر رہے ہیں کیا یہ کوئی ایسی چیز ہے جس کے بارے میں ان کے لیے فیصلہ ہو چکا ہے اور سب کچھ طے ہو چکا ہے یا پھر وہ نئے سرے سے اس کے مطابق عمل کرتے ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تعلیمات لے کے آئے تھے کیا اس وجہ سے ان کے خلاف حجت پیش کی جا سکتی ہے؟ میں نے کہا: بلکہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں فیصلہ ہو چکا ہے جو پہلے گزر چکا ہے۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر تو یہ ظلم ہو گا۔ راوی کہتے ہیں: میں اس بات پر بہت گھبرا گیا میں نے کہا: ہر چیز اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے اور اس کی بادشاہی کے دست قدرت میں ہے اس سے اس کے بارے میں سوال نہیں کیا جا سکتا جو وہ کرتا ہے البتہ لوگوں سے لیا جائے گا، تو سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں ٹھیک رکھا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اللہ تعالیٰ نے تمہیں توفیق دی ہے۔ اللہ کی قسم! میں نے تم سے یہ سوال صرف اس لیے کیا تھا تاکہ تمہاری عقل کے بارے میں اندازہ لگا سکوں (پھر انہوں نے بتایا) ایک مرتبہ مزینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا رائے ہے آج کل جو لوگ عمل کرتے ہیں اور جس بارے میں کوشش کرتے ہیں کیا یہ کوئی ایسی چیز ہے جس کے لیے ان کے بارے میں فیصلہ پہلے ہو چکا ہے یا پھر یہ لوگ نئے سرے سے کام کرتے ہیں جو اس کے مطابق ہو جو ان کے پاس نبی تعلیمات لے کے آئے اور اس بارے میں ان کے خلاف حجت قائم کی جا سکے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بلکہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے ان کے لیے فیصلہ ہو چکا ہے اور وہ پہلے گزر چکا ہے۔ سائل نے دریافت کیا پھر ہم عمل کیوں کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو دو میں سے کسی ایک منزل کے لیے پیدا کیا ہے وہ اس سے وہی کام لے گا۔
(راوی کہتے ہیں:) اس کی تصدیق اللہ کی کتاب میں (ان الفاظ میں) موجود ہے۔ ”اور نفس کی قسم اور جس کا اس نے تسویہ کیا ہے اسے گناہ اور پرہیزگاری الہام کی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6182]
(راوی کہتے ہیں:) اس کی تصدیق اللہ کی کتاب میں (ان الفاظ میں) موجود ہے۔ ”اور نفس کی قسم اور جس کا اس نے تسویہ کیا ہے اسے گناہ اور پرہیزگاری الہام کی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6182]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6149»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «ظلال الجنة» (174).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
أبو الأسود الدؤلي ← عمران بن حصين الأزدي