🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
47. باب بدء الخلق - ذكر قول الملائكة عند هبوط آدم إلى الأرض أتجعل فيها من يفسد فيها ويسفك الدماء-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر کہ فرشتوں نے آدم کے زمین پر اترنے پر کہا کہ کیا تو اس میں اسے رکھے گا جو اس میں فساد کرے گا اور خون بہائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6186
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِِنَّ آدَمَ لَمَّا أُهْبِطَ إِِلَى الأَرْضِ، قَالَتِ الْمَلائِكَةُ: أَيْ رَبِّ، أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لا تَعْلَمُونَ سورة البقرة آية 30، قَالُوا: رَبَّنَا نَحْنُ أَطْوَعُ لَكَ مِنْ بَنِي آدَمَ، قَالَ اللَّهُ لِمَلائِكَتِهِ: هَلُمُّوا مَلَكَيْنِ مِنَ الْمَلائِكَةِ، فَنَنْظُرَ كَيْفَ يَعْمَلانِ، قَالُوا: رَبَّنَا، هَارُوتُ وَمَارُوتُ، قَالَ: فَاهْبِطَا إِِلَى الأَرْضِ، قَالَ: فَمُثِّلَتْ لَهُمُ الزَّهْرَةُ امْرَأَةً مِنْ أَحْسَنِ الْبَشَرِ، فَجَاءَاهَا فَسَأَلاهَا نَفْسَهَا، فَقَالَتْ: لا وَاللَّهِ حَتَّى تَكَلَّمَا بِهَذِهِ الْكَلِمَةِ مِنَ الإِِشْرَاكِ، قَالا: وَاللَّهِ لا نُشْرِكُ بِاللَّهِ أَبَدًا، فَذَهَبَتْ عَنْهُمَا، ثُمَّ رَجَعَتْ بِصَبِيٍّ تَحْمِلُهُ، فَسَأَلاهَا نَفْسَهَا، فَقَالَتْ: لا وَاللَّهِ حَتَّى تَقْتُلا هَذَا الصَّبِيَّ، فَقَالا: لا وَاللَّهِ لا نَقْتُلُهُ أَبَدًا، فَذَهَبَتْ، ثُمَّ رَجَعَتْ بِقَدَحٍ مِنْ خَمْرٍ تَحْمِلُهُ، فَسَأَلاهَا نَفْسَهَا، فَقَالَتْ: لا وَاللَّهِ حَتَّى تَشْرَبَا هَذَا الْخَمْرَ، فَشَرِبَا فَسَكِرَا، فَوَقَعَا عَلَيْهَا، وَقَتَلا الصَّبِيَّ، فَلَمَّا أَفَاقَا، قَالَتِ الْمَرْأَةُ: وَاللَّهِ مَا تَرَكْتُمَا مِنْ شَيْءٍ أَثِيمًا إِِلا فَعَلْتُمَاهُ حِينَ سَكِرْتُمَا، فَخُيِّرَا عِنْدَ ذَلِكَ بَيْنَ عَذَابِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الآخِرَةِ، فَاخْتَارَا عَذَابَ الدُّنْيَا" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: الزَّهْرَةُ هَذِهِ: امْرَأَةٌ كَانَتْ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ، لا أَنَّهَا الزَّهْرَةُ الَّتِي هِيَ فِي السَّمَاءِ الَّتِي هِيَ مِنَ الْخُنَّسِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جب سیدنا آدم علیہ السلام کو زمین پر اتارا گیا تو فرشتوں نے کہا: اے پروردگار! ﴿أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ﴾ [سورة البقرة: 30] کیا تو اس میں اسے (اپنا خلیفہ) بنا رہا ہے جو اس میں فساد کرے گا اور خون بہائے گا جب کہ ہم تیری حمد کے ہمراہ تسبیح بیان کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ تو پروردگار نے فرمایا: ﴿إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾ [سورة البقرة: 30] میں وہ علم رکھتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ ان فرشتوں نے عرض کی: ہم اولاد آدم کے مقابلے میں تیرے زیادہ فرمانبردار ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا: تم فرشتوں میں سے کوئی سے دو فرشتے لے آؤ، تو ہم اس بات کو ظاہر کر دیں گے کہ وہ کیا عمل کرتے ہیں۔ ان لوگوں نے عرض کی: اے میرے پروردگار! ہاروت اور ماروت (پیش خدمت ہیں)، تو پروردگار نے فرمایا: تم دونوں زمین پر اتر جاؤ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ان کے سامنے زہرہ نام کی ایک خوبصورت ترین عورت آئی، وہ دونوں اس کے پاس آئے، انہوں نے اس سے زنا کی خواہش کا اظہار کیا، تو اس نے کہا: جی نہیں! اللہ کی قسم! جب تک تم لوگ یہ شرکیہ کلمہ نہیں کہو گے (میں تمہارے ساتھ زنا نہیں کروں گی)۔ ان دونوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم کبھی بھی کسی کو اللہ کا شریک نہیں قرار دیں گے۔ وہ ان دونوں کو چھوڑ کر چلی گئی، پھر وہ ایک بچے کو گود میں اٹھا کر واپس آئی، ان دونوں نے پھر اس کے سامنے زنا کی خواہش کا اظہار کیا، تو اس نے کہا: جی نہیں! اللہ کی قسم! جب تک تم اس بچے کو قتل نہیں کرتے (میں تمہاری بات نہیں مانوں گی)۔ ان دونوں نے کہا: جی نہیں! اللہ کی قسم! ہم اسے کبھی قتل نہیں کریں گے۔ وہ پھر چلی گئی، پھر وہ شراب کا پیالہ اٹھا کر آئی، پھر ان دونوں نے اس سے خواہش کا اظہار کیا، اس نے کہا: جی نہیں! اللہ کی قسم! جب تک تم یہ شراب نہیں پیتے (میں تمہاری خواہش پوری نہیں کروں گی)۔ ان دونوں نے شراب پی لی، وہ دونوں مدہوش ہو گئے، انہوں نے اس عورت کے ساتھ زنا بھی کر لیا اور اس بچے کو قتل بھی کر دیا، جب انہیں ہوش آیا، تو اس عورت نے کہا: اللہ کی قسم! تم نے ہر گناہ اس وقت کیا جب تم دونوں مدہوش ہو گئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر ان دونوں کو اس وقت دنیاوی عذاب اور آخرت کے عذاب کے درمیان اختیار دیا گیا، تو انہوں نے دنیا کے عذاب کو اختیار کر لیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ایک عورت تھی جو اس زمانے میں موجود تھی، اس سے مراد زہرہ نامی ستارہ نہیں ہے، جو آسمان میں ہوتا ہے، جو خنس (چھپنے والے ستاروں) میں سے ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6186]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6186، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8894، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19739، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6287» «رقم طبعة با وزير 6153»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
باطل مرفوع - «الضعيفة» (170).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥موسى بن جبير الأنصاري
Newموسى بن جبير الأنصاري ← نافع مولى ابن عمر
صدوق حسن الحديث
👤←👥زهير بن محمد التميمي، أبو المنذر
Newزهير بن محمد التميمي ← موسى بن جبير الأنصاري
صدوق حسن الحديث
👤←👥يحيى بن أبي بكير القيسي، أبو زكريا
Newيحيى بن أبي بكير القيسي ← زهير بن محمد التميمي
ثقة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← يحيى بن أبي بكير القيسي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
👤←👥الحسن بن سفيان الشيباني، أبو العباس
Newالحسن بن سفيان الشيباني ← ابن أبي شيبة العبسي
ثقة
Sahih Ibn Hibban Hadith 6186 in Urdu