صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
110. باب بدء الخلق - ذكر البيان بأن بني إسرائيل كانوا يسمون في زمانهم بأسماء الصالحين قبلهم-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر بیان کہ بنی اسرائیل اپنے زمانے میں صالحین کے ناموں سے نام رکھتے تھے
حدیث نمبر: 6250
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلَى نَجْرَانَ، فَقَالَ لِي أَهْلُ نَجْرَانَ: أَلَسْتُمْ تَقْرَءُونَ هَذِهِ الآيَةَ: يَا أُخْتَ هَارُونَ مَا كَانَ أَبُوكِ امْرَأَ سَوْءٍ وَمَا كَانَتْ أُمُّكِ بَغِيًّا سورة مريم آية 28، وَقَدْ عَرَفْتُمْ مَا بَيْنَ مُوسَى وَعِيسَى؟ فَلَمْ أَدْرِ مَا أَرُدُّ عَلَيْهِمْ، حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لِي: " أَفَلا أَخْبَرْتَهُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا يُسَمُّونَ بِالأَنْبِيَاءِ وَالصَّالِحِينَ قَبْلَهُمْ؟" .
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نجران بھیجا اہل نجران نے مجھ سے دریافت کیا: کیا تم لوگ یہ آیت نہیں پڑھتے ہو۔ ”اے ہارون کی بہن! تمہارا والد برا آدمی نہیں تھا اور نہ ہی تمہاری ماں بری عورت تھی۔“
(اہل نجران نے کہا:) آپ تو یہ بات جانتے ہیں کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کتنا طویل عرصہ ہوا ہے (تو بی بی مریم سیدنا ہارون علیہ السلام کی بہن کیسے ہو سکتی ہیں) سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں مجھے سمجھ نہیں آئی کہ میں کیا جواب دوں۔ میں مدینہ منورہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے اس بات کا تذکرہ آپ کے سامنے کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے انہیں یہ بات نہیں بتائی۔ وہ لوگ اپنے سے پہلے انبیاء اور نیک لوگوں کے ناموں پر (اپنے بچوں کا نام رکھتے تھے اس لئے سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کے بھائی کا نام بھی ہارون تھا) [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6250]
(اہل نجران نے کہا:) آپ تو یہ بات جانتے ہیں کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کتنا طویل عرصہ ہوا ہے (تو بی بی مریم سیدنا ہارون علیہ السلام کی بہن کیسے ہو سکتی ہیں) سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں مجھے سمجھ نہیں آئی کہ میں کیا جواب دوں۔ میں مدینہ منورہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے اس بات کا تذکرہ آپ کے سامنے کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے انہیں یہ بات نہیں بتائی۔ وہ لوگ اپنے سے پہلے انبیاء اور نیک لوگوں کے ناموں پر (اپنے بچوں کا نام رکھتے تھے اس لئے سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کے بھائی کا نام بھی ہارون تھا) [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6250]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6217»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «مختصر تحفة المودود».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
الرواة الحديث:
علقمة بن وائل الحضرمي ← المغيرة بن شعبة الثقفي