علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
114. باب بدء الخلق - ذكر الإباحة للمرء أن يحدث عن بني إسرائيل وأخبارهم-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر اجازت کہ انسان بنی اسرائیل اور ان کی خبروں کے بارے میں بات کرے
حدیث نمبر: 6256
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ السَّلُولِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً، وَحَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِِسْرَائِيلَ وَلا حَرَجَ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَوْلُهُ:" بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً"، أَمْرٌ قَصَدَ بِهِ الصَّحَابَةَ، وَيَدْخُلُ فِي جُمْلَةِ هَذَا الْخَطَّابِ مَنْ كَانَ بِوَصْفِهِمْ إِِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فِي تَبْلِيغِ مَنْ بَعْدَهُمْ عَنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ فَرْضٌ عَلَى الْكِفَايَةِ، إِِذَا قَامَ الْبَعْضُ بِتَبْلِيغِهِ، سَقَطَ عَنِ الآخَرِينَ فَرْضُهُ، وَإِِنَّمَا يَلْزَمُ فَرْضِيَّتَهُ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْهُ مَا يَعْلَمُ أَنَّهُ لَيْسَ عِنْدَ غَيْرِهِ، وَأَنَّهُ مَتَى امْتَنَعَ عَنْ بَثِّهِ، خَانَ الْمُسْلِمِينَ، فَحِينَئِذٍ يَلْزَمُهُ فَرْضُهُ، وَفِيهِ دَلِيلٌ عَنْ أَنَّ السُّنَّةَ يَجُوزُ أَنْ يُقَالَ لَهَا: الآيُ، إِِذْ لَوْ كَانَ الْخَطَّابُ عَلَى الْكِتَابِ نَفْسِهِ دُونَ السُّنَنِ، لاسْتَحَالَ لاشْتِمَالِهِمَا مَعًا عَلَى الْمَعْنَى الْوَاحِدِ، وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَحَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِِسْرَائِيلَ وَلا حَرَجَ"، أَمْرُ إِِبَاحَةٍ لِهَذَا الْفِعْلِ مِنْ غَيْرِ ارْتِكَابِ إِِثْمٍ يَسْتَعْمِلُهُ، يُرِيدُ بِهِ: حَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِِسْرَائِيلَ مَا فِي الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ مِنْ غَيْرِ حَرَجٍ يَلْزَمُكُمْ فِيهِ، وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا"، لَفْظَةٌ خُوطِبَ بِهَا الصَّحَابَةُ، وَالْمُرَادُ مِنْهُ غَيْرُهُمْ إِِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لا هُمْ، إِِذِ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا نَزَّهَ أَقْدَارَ الصَّحَابَةِ عَنْ أَنْ يُتَوَهَّمَ عَلَيْهِمُ الْكَذِبُ، وَإِِنَّمَا قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا، لأَنْ يَعْتَبِرَ مَنْ بَعْدَهُمْ، فَيَعُوا السُّنَنَ وَيَرْوُوهَا عَلَى سُنَنِهَا، حَذَرَ إِِيجَابِ النَّارِ لِلْكَاذِبِ عَلَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے حوالے سے تبلیغ کر دو خواہ ایک ہی بات ہو بنی اسرائیل کے حوالے سے بھی روایات نقل کر دیا کرو اس میں کوئی گناہ نہیں ہے اور جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے وہ جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے پر پہنچنے کے لئے تیار رہے۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: میری طرف سے تبلیغ کر دو خواہ ایک آیت ہو یہ ایک ایسا حکم ہے جس سے مراد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں، تاہم اس کے عمومی حکم میں وہ تمام لوگ داخل ہوں گے جو قیامت تک آئیں گے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی تبلیغ کریں گے، اور یہ چیز فرض کفایہ کی حیثیت رکھتی ہے، جب بعض لوگ تبلیغ کر دیں گے، تو باقی لوگوں سے فرض ساقط ہو جائے گا اور اس کی فرضیت اس شخص پر لازم ہوتی ہے، جس کے پاس ایسا علم موجود ہو جو دوسرے کے پاس نہ ہو ایسا شخص جب اپنے علم کو پھیلانے سے رک جاتا ہے تو وہ مسلمانوں کے ساتھ خیانت کا مرتکب ہوتا ہے اور اس صورت میں اس کا فرض اس پر لازم ہو جاتا ہے۔ اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ سنت کے لئے لفظ آیت استعمال ہو سکتا ہے۔ کیونکہ اگر روایت کے الفاظ صرف کتاب کے حکم کے بارے میں ہوتے سنت کے بارے میں نہ ہوتے تو ان دونوں کا ایک ہی معانی پر مشتمل ہونا ناممکن ہوتا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: بنی اسرائیل کے حوالے سے روایات نقل کر دیا کرو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہ امر کا صیغہ ہے لیکن اس فعل کو مباح قرار دینے کے لئے ہے، جب کہ اس کے ذریعے کسی گناہ کا ارتکاب نہ کیا جائے اور اس کے ذریعے مراد یہ ہے کہ تم اسرائیل کے حوالے سے وہ روایات نقل کر دیا کرو جن کا مضمون کتاب و سنت میں موجود ہے۔ اس صورت میں تم پر کوئی حرج لازم نہیں آئے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: جو شخص میری طرف جان بوجھ کر جھوٹی بات منسوب کرے اس میں لفظی طور پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے خطاب کیا گیا ہے لیکن اس سے مراد قیامت تک آنے والے تمام لوگ ہیں۔ صرف صحابہ مراد نہیں ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس چیز سے محفوظ رکھا تھا کہ وہ غلط بیانی سے کام لیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات اسی لئے ارشاد فرمائی ہے کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بعد کے لوگ سنت کا علم حاصل کرتے ہوئے اسے محفوظ کرتے ہوئے اسے روایت کرتے ہوئے اس کے مرتبہ و مقام کا خیال رکھیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنے کے نتیجے میں جہنم کے لازم ہونے سے بچنے کی کوشش کریں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6256]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: میری طرف سے تبلیغ کر دو خواہ ایک آیت ہو یہ ایک ایسا حکم ہے جس سے مراد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں، تاہم اس کے عمومی حکم میں وہ تمام لوگ داخل ہوں گے جو قیامت تک آئیں گے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی تبلیغ کریں گے، اور یہ چیز فرض کفایہ کی حیثیت رکھتی ہے، جب بعض لوگ تبلیغ کر دیں گے، تو باقی لوگوں سے فرض ساقط ہو جائے گا اور اس کی فرضیت اس شخص پر لازم ہوتی ہے، جس کے پاس ایسا علم موجود ہو جو دوسرے کے پاس نہ ہو ایسا شخص جب اپنے علم کو پھیلانے سے رک جاتا ہے تو وہ مسلمانوں کے ساتھ خیانت کا مرتکب ہوتا ہے اور اس صورت میں اس کا فرض اس پر لازم ہو جاتا ہے۔ اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ سنت کے لئے لفظ آیت استعمال ہو سکتا ہے۔ کیونکہ اگر روایت کے الفاظ صرف کتاب کے حکم کے بارے میں ہوتے سنت کے بارے میں نہ ہوتے تو ان دونوں کا ایک ہی معانی پر مشتمل ہونا ناممکن ہوتا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: بنی اسرائیل کے حوالے سے روایات نقل کر دیا کرو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہ امر کا صیغہ ہے لیکن اس فعل کو مباح قرار دینے کے لئے ہے، جب کہ اس کے ذریعے کسی گناہ کا ارتکاب نہ کیا جائے اور اس کے ذریعے مراد یہ ہے کہ تم اسرائیل کے حوالے سے وہ روایات نقل کر دیا کرو جن کا مضمون کتاب و سنت میں موجود ہے۔ اس صورت میں تم پر کوئی حرج لازم نہیں آئے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: جو شخص میری طرف جان بوجھ کر جھوٹی بات منسوب کرے اس میں لفظی طور پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے خطاب کیا گیا ہے لیکن اس سے مراد قیامت تک آنے والے تمام لوگ ہیں۔ صرف صحابہ مراد نہیں ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس چیز سے محفوظ رکھا تھا کہ وہ غلط بیانی سے کام لیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات اسی لئے ارشاد فرمائی ہے کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بعد کے لوگ سنت کا علم حاصل کرتے ہوئے اسے محفوظ کرتے ہوئے اسے روایت کرتے ہوئے اس کے مرتبہ و مقام کا خیال رکھیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنے کے نتیجے میں جہنم کے لازم ہونے سے بچنے کی کوشش کریں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6256]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6223»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 6256 in Urdu
أبو كبشة السلولي ← عبد الله بن عمرو السهمي