صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
234. باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر إرادة المصطفى صلى الله عليه وسلم ترك قبول الهدية إلا عن قبائل معروفة-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدیہ قبول نہ کرنے کا ارادہ کیا سوائے معروف قبائل سے
حدیث نمبر: 6384
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلامِ بِبَيْرُوتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْمَاعِيلَ بْنِ عُلَيَّةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا وَهَبَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَثَابَهُ عَلَيْهَا، فَقَالَ:" رَضِيتَ؟"، قَالَ: لا، فَزَادَهُ، وَقَالَ:" رَضِيتَ؟"، قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لا أَتَّهِبُ إِِلا مِنْ قُرَشِيٍّ، أَوْ أَنْصَارِيٍّ، أَوْ ثَقَفِيٍّ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے کے طور پر کوئی چیز دی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بدلے کے طور پر کوئی چیز اسے دیدی اور دریافت کیا: کیا تم راضی ہو۔ اس نے جواب دیا: جی نہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مزید عطا کیا اور دریافت کیا: کیا تم راضی ہو، اس نے جواب دیا: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے طے کیا ہے اب میں صرف قریشی یا انصاری یا ثقفی شخص سے تحفہ قبول کروں گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6384]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6350»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - المصدر نفسه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
طاوس بن كيسان اليماني ← عبد الله بن العباس القرشي