علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
266. باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم في خبر شريك بن طارق إلا أن الله أعانني عليه فأسلم أراد بقوله فأسلم بالنصب لا بالرفع-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر بیان کہ شریک بن طارق کی خبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "اللہ نے مجھے اس پر مدد دی تو وہ مطیع ہوگیا" سے مراد نصب ہے نہ کہ رفع
حدیث نمبر: 6417
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِِلا وَقَدْ وُكِلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنَ الْجِنِّ"، قَالُوا: وَإِِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" وَإِِيَّايَ، إِِلا أَنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ، فَلا يَأْمُرَنِي إِِلا بِخَيْرٍ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ شَيْطَانَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْلَمَ حَتَّى لَمْ يَأْمُرْهُ إِِلا بِخَيْرٍ، لا أَنَّهُ كَانَ يَسْلَمُ مِنْهُ وَإِِنْ كَانَ كَافِرًا.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے ہر شخص کو اس کے ساتھی جن کے سپرد کر دیا گیا ہے، لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ کو بھی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے بھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے خلاف میری مدد کی اور وہ مسلمان ہو گیا اب وہ مجھے صرف بھلائی کے لئے کہتا ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ بی فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص شیطان مسلمان ہو گیا تھا۔ یہاں تک کہ وہ آپ کو صرف بھلائی کے لئے کہتا تھا۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس شیطان کی طرف سے محفوظ ہو گئے تھے خواہ وہ شیطان کافر ہی رہتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6417]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ بی فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص شیطان مسلمان ہو گیا تھا۔ یہاں تک کہ وہ آپ کو صرف بھلائی کے لئے کہتا تھا۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس شیطان کی طرف سے محفوظ ہو گئے تھے خواہ وہ شیطان کافر ہی رہتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6417]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6383»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «فقه السيرة» (62): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 6417 in Urdu
رافع الأشجعي ← عبد الله بن مسعود